بدھ، 28 اکتوبر 2026

پی ٹی آئی لانگ مارچ چوتھے روز خیبر پہنچ گیا، سہیل آفریدی کا اعلان: صوبے میں نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا

عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ بدھ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی علاقے خیبر پہنچا، جہاں انہوں نے فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعلان کیا۔ مارچ کی حتمی منزل تاحال غیر واضح ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
فائل تصویر: درۂ خیبر (تصویر لانگ مارچ کی نہیں)
فائل تصویر: درۂ خیبر | تصویر: Anthony Maw، لائسنس: CC BY 3.0 (ویکی میڈیا کامنز)

خیبر: پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اپنے چوتھے روز بدھ کو خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ کے علاقے شلوبر پہنچ گیا، جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا آبائی علاقہ ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مقامی بزرگوں، قبائلی رہنماؤں اور نوجوانوں نے وزیراعلیٰ اور مارچ کے شرکا کا پرتپاک استقبال کیا۔ ڈان کے مطابق یہ مارچ پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر نکالا گیا ہے اور اس کا روٹ آغاز سے اب تک بار بار تبدیل ہوتا رہا ہے۔

باسی بابا چوک پر خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ صوبے میں کسی نئے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور جب تک وہ وزیراعلیٰ ہیں، عوام دشمن پالیسیوں کی مزاحمت کریں گے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ مذاکرات کے دوران صوبائی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایک اور فوجی آپریشن کا حصہ بنے، مگر وہ کبھی اس پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے تیراہ کے باسیوں کی نقل مکانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو شدید سردی میں گھروں سے نکلنا پڑا اور فیصلہ سازوں کو ان کی مشکلات کا اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے آپریشنوں سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 21 ارب روپے جاری کیے، جبکہ وفاق نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مختص فنڈز جاری نہیں کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہے مگر وہاں کی صوبائی حکومت وفاق سے تعاون کر رہی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعلیٰ نے آئین اور قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، آزادیٔ صحافت اور سیاسی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی خاص خاندان یا طبقے کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے، پختونوں نے ملک کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، اور پی ٹی آئی بانی کی رہائی کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے وکلا، ججوں، صحافیوں اور طلبہ سے پرامن جدوجہد میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔

مارچ کی اگلی منزل کے بارے میں معلومات متضاد ہیں۔ ڈان کے مطابق پہلے منصوبہ تھا کہ وزیراعلیٰ آٹھ اکتوبر کو خیر آباد (جو پنجاب کے ضلع اٹک کی سرحد پر ہے) پہنچ کر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، لیکن وزیراعلیٰ کے دفتر کے بیان میں بتایا گیا کہ مارچ اب صوابی تک جائے گا جہاں اگلا اعلان ہوگا۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن عمر فاروق نے ڈان کو بتایا کہ حتمی منزل فی الحال طے نہیں، البتہ مارچ جمعرات کو پشاور پہنچے گا۔ ٹریبیون کے مطابق قافلہ شلوبر ڈی روڈ پر رات گزار کر اگلے روز پشاور روانہ ہوگا۔ ڈان کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پشاور کے بعض علاقوں میں مارچ کی متوقع آمد سے قبل موبائل سروس معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران ٹریبیون کے مطابق نقاب پوش افراد ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کے بھائی اور ان کے محافظوں کو اغوا کر کے لے گئے؛ ڈان نے اسے صوابی کا واقعہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اہلِ خانہ نے اسے مارچ سے جوڑا اور وفاق کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

سیاسی محاذ پر وزیراعظم شہباز شریف پی ٹی آئی کو مارچ ختم کر کے بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں، جبکہ ٹریبیون کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت ریاست کو یرغمال بنا کر کیے گئے مطالبات نہیں مانے گی اور پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ مارچ صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات سے پہلے مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ دونوں فریق گزشتہ دور میں پیش رفت کے قریب پہنچ گئے تھے اور امید ظاہر کی کہ دوسری کوشش میں وہ معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

پس منظر

پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، پھر 4 اکتوبر تک ملتوی ہوا۔ مارچ کا آغاز 4 اکتوبر کو لکی مروت اور کرک سے ہوا، دوسرے دن کوہاٹ اور منگل کی رات پشاور کے مضافات میں متنی پہنچا۔ ڈان کے مطابق پی ٹی آئی نے پہلے اسلام آباد کو حتمی منزل قرار دیا تھا، جبکہ وفاق نے وہاں احتجاج یا اجتماع پر خبردار کر رکھا ہے۔ مارچ کا فیصلہ حکومت سے ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہوا، جس کی بڑی وجہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلاف بتائی گئی ہے۔ دسمبر 2025 میں تیراہ کے مکینوں نے ایک فوجی آپریشن کے لیے گھر خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، اور ڈان کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے حال ہی میں وعدوں کی تکمیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اہم نکات

  • لانگ مارچ چوتھے روز خیبر کے علاقے شلوبر پہنچا؛ اگلا پڑاؤ پشاور بتایا گیا ہے۔
  • سہیل آفریدی: نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا، آئین و قانون کی بالادستی چاہیے۔
  • مارچ کی حتمی منزل (خیر آباد یا صوابی) پر ابہام برقرار ہے۔
  • حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات تعطل میں، دونوں جانب سے بیانات سخت۔

ممکنہ اثرات

مارچ کے راستے میں آمد و رفت اور موبائل سروسز متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی صورت میں وفاق اور صوبے کے درمیان تصادم کا خدشہ بڑھے گا۔ سیاسی تعطل طویل ہونے سے معاشی اعتماد اور اسٹاک مارکیٹ بھی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

جمعرات کو مارچ کے پشاور پہنچنے پر اگلے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا انحصار عمران خان تک رسائی جیسے نکات پر ہوگا۔

ذرائع

  • ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون (8 اکتوبر 2026)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔