پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ بامعنی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پہلے اعتماد سازی کے عملی اقدامات کرے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے لیے سیاسی بیانات کی بجائے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، اور مذاکرات میں سنجیدہ حکومت کو اعتماد بحال کرنے کے لیے قدم اٹھانے چاہیں۔
پی ٹی آئی کے مطالبات میں ان اقدامات کی واپسی شامل ہے جنہیں پارٹی غیر قانونی قرار دیتی ہے، خیبرپختونخوا میں اس کی صوبائی حکومت کے مینڈیٹ کی بحالی اور ان سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے جن کی حراست پارٹی کے مطابق قانونی طور پر جائز نہیں۔ پارٹی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور منتخب نمائندوں و کارکنوں پر دباؤ کا سلسلہ بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بیان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، جس میں وکلا اور اہل خانہ سے قانونی ملاقاتیں، ان کے اور ان کی اہلیہ کے مقدمات کی منصفانہ اور بروقت سماعت، اور عدالتی احکامات کے مطابق ذاتی معالجین سے علاج کی سہولت شامل ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی پر باضابطہ پابندی کی اب ضرورت نہیں رہی۔ وزیر اطلاعات کا مؤقف تھا کہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی میں ناکامیوں کی وجہ سے پی ٹی آئی صوبے میں اقتدار کھو چکی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے وزیر اطلاعات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے حکمران اتحاد کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنے کا چیلنج دیا اور دعویٰ کیا کہ آزادانہ انتخابات میں ان کی جماعت کامیاب ہوگی۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو صوبے کے انتخابی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تقریباً پانچ کروڑ آبادی کے صوبے کا مستقبل منتخب نمائندوں کی شمولیت کے بغیر طے نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت ان اقدامات کو سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی انہیں عوامی مینڈیٹ کی نفی سمجھتی ہے۔ اسی پس منظر میں دونوں اطراف کی جانب سے مذاکرات کا ذکر تو کیا جا رہا ہے، لیکن شرائط پر اختلاف برقرار ہے۔
ڈان کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کے ان مطالبات پر حکومت کا کوئی نیا باضابطہ ردعمل شامل نہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بارے میں دونوں اطراف کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اب تک کسی باضابطہ بات چیت کے شیڈول یا فریم ورک کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دونوں اطراف کی جانب سے مزید بیانات سامنے آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ذرائع: Dawn