بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ڈی جی آئی ایس پی آر کا اعتراف: پاکستانی فوجی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، مکہ دفاعی اتحاد عملی مرحلے میں

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کو انٹرویو میں تصدیق کی کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ بیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے اجتماعی دفاعی وعدوں پر عمل شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
فائل تصویر: ریاض کا اسکائی لائن (تصویر خبر کے واقعے سے متعلق نہیں)
فائل تصویر: ریاض کا اسکائی لائن | تصویر: B.alotaby، لائسنس: CC BY-SA 4.0 (ویکی میڈیا کامنز)

راولپنڈی: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں موجود ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے نمائندے ایون واٹسن کو دیے گئے انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پاکستانی اہلکار پہلے ہی سعودی سرزمین پر موجود ہیں، تو انہوں نے کہا کہ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستانی افواج وہاں پہلے سے موجود ہیں اور دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ اتحاد کسی خلا میں وجود میں نہیں آیا بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی سطح کے مسلسل تعلقات اس کی بنیاد ہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پیر کی شب جاری مشترکہ بیان کے مطابق تینوں ممالک نے ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملی عمل درآمد شروع کرنے اور طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کو تیزی سے مملکت میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ اقدامات منظور شدہ انتظامات اور فریقین کے قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔ بیان میں کسی خطرے کا نام نہیں لیا گیا، تاہم یہ پیش رفت یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے پس منظر میں ہوئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف، جو اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ تھے، نے جیو نیوز کے پروگرام میں بتایا کہ سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف کچھ علاقے واپس لیے ہیں۔ جب ان سے پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ آپریشنل کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی موجودگی ہے مگر جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی فوج شامل ہے، اور پاکستان اور ترکیہ کی افواج معاون کردار ادا کر رہی ہیں؛ پاکستان کی جانب سے نگرانی اور جاسوسی (ریکنائسنس) کا کام کیا جا رہا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق منگل کو وزارتِ اطلاعات و نشریات نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو "قیاس آرائی پر مبنی" قرار دے کر مسترد کیا جس میں دو اکتوبر کو ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں 30 سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں جو زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل مار گرانے میں مدد دیں گے۔ وزارت نے کہا کہ اجتماعی دفاعی نظام پر عمل درآمد کی عملی تفصیلات خفیہ ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اسلام آباد نے یمن میں لڑاکا کردار کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی فوجی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے "زبردست" قرار دیا، جیسا کہ ایکسپریس ٹریبیون نے اناضولو ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

ڈان کے تجزیے کے مطابق فی الحال مکہ اتحاد سعودی عرب کے دفاع کو تو مضبوط کر سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ ایک واحد قوت کے طور پر لڑ سکے۔ اب تک کی پیش رفت میں سیاسی عزم، ادارہ جاتی سربراہ کی تقرری اور ریاض سیکریٹریٹ کا قیام شامل ہے، جبکہ یمن میں لڑائی کے لیے پاکستانی یا ترک فوج کو عوامی سطح پر کوئی اجازت نہیں دی گئی اور ترکیہ نے اب تک صرف دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔ ڈان کے اداریے میں کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مملکت کو بیرونی جارحیت سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

پس منظر

مکہ دفاعی معاہدہ سات اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا، جس کے تحت فریقین ایک ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کریں گے۔ 25 ستمبر کو تینوں ملکوں کے فوجی سربراہان نے حوثی حملوں کے تناظر میں ریاض میں ہنگامی ملاقات کی، جبکہ 18 ستمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے "کسی بھی حد تک" جائے گا اور اس کی وابستگی غیر مشروط ہے۔

اہم نکات

  • ڈی جی آئی ایس پی آر: پاکستانی افواج سعودی عرب میں دہائیوں سے مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔
  • پیر کو ریاض میں اتحاد کی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس، طے شدہ دستوں کی تیز تعیناتی کا فیصلہ۔
  • خواجہ آصف: جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی فوج شامل ہے، پاکستان اور ترکیہ معاون کردار میں ہیں۔
  • حکومت نے رائٹرز کی 30 سے 40 ہزار فوجیوں کی رپورٹ کو قیاس آرائی کہا؛ عملی تفصیلات خفیہ ہیں۔

ممکنہ اثرات

یہ اعتراف پاکستان کے دفاعی کردار پر ملکی اور بین الاقوامی بحث کو تیز کر سکتا ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ آیا فوجی دستے براہِ راست لڑائی میں شامل ہوں گے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

اتحاد کی کمیٹی کی جانب سے مزید اجلاس اور تعیناتی کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ یمن میں پاکستانی یا ترک افواج کے کردار پر کسی باضابطہ فیصلے کا اعلان ابھی باقی ہے۔

ذرائع

  • ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون (8 اکتوبر 2026)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔