امریکا کی ایک وفاقی جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل، سان ڈیاگو میں قائم کمپنی ٹیکشن ٹیکنالوجی کو 5.7 ارب ڈالر سے زائد ادا کرے۔ رائٹرز کے مطابق جیوری نے جمعے کو قرار دیا کہ ایپل کا ٹیپٹک انجن، جو آئی فون اور ایپل واچ میں تھرتھراہٹ اور لمس کا احساس پیدا کرتا ہے، ٹیکشن کے دو پیٹنٹس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
سی این بی سی اور اینگیجٹ کے مطابق اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو یہ امریکا میں پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے سب سے بڑے ہرجانوں میں شمار ہو گا۔ سی این بی سی کے مطابق جیوری نے یہ نہیں کہا کہ ایپل نے جان بوجھ کر خلاف ورزی کی، جس کے باعث ہرجانے میں اضافے کا امکان محدود ہو جاتا ہے۔
مقدمے کا پس منظر
ٹیکشن ہیڈفونز اور گیمنگ ہیڈسیٹس کے لیے ہیپٹک ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے اور اس نے 2021 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اینگیجٹ کے مطابق 2023 میں سان ڈیاگو کے ایک وفاقی جج نے مقدمہ خارج کر دیا تھا، تاہم بعد میں اپیل کورٹ نے اسے بحال کر دیا جس کے بعد معاملہ جیوری کے سامنے آیا۔ سی این بی سی کے مطابق مقدمے کی سماعت 14 ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔
ایپل کا مؤقف
ایپل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا ٹیپٹک انجن ٹیکشن کی ٹیکنالوجی سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور کمپنی ٹیکشن کی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتی۔ بلومبرگ لا کے مطابق ایپل نے جیوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیصلے اور ہرجانے کی رقم سے سخت اختلاف کیا اور اپیل کا اعلان کیا۔ ٹیکشن کے وکلا نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کمپنی کے پیٹنٹ حقوق کی توثیق قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی رقم کے فیصلے اپیل کے مراحل میں اکثر کم یا تبدیل ہو جاتے ہیں، اس لیے رقم کی ادائیگی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔
ذرائع: ڈان / رائٹرز، سی این بی سی، بلومبرگ لا، اینگیجٹ