جمعرات، 29 اکتوبر 2026

پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کی ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق دوحہ میں چاروں ممالک کے وزراء نے دفاعی پیداوار، مشقوں اور تحقیق میں تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے؛ دفتر خارجہ کا ردعمل تاحال نہیں آیا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی فائل تصویر
(فائل فوٹو) تصویر: USAID Pakistan / Wikimedia Commons (Public domain)

پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے بدھ کو دفاعی پیداوار اور صلاحیتوں کے فروغ میں تعاون کے لیے ایک کثیرالفریقی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ ترک وزارتِ دفاع کے مطابق دستخط کی تقریب قطر میں ہوئی جس میں چاروں ممالک کے وزراء شریک تھے۔ ڈان کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے اس بارے میں ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ترک وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری تصاویر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف دکھائی دیے، جنہوں نے پاکستان کی طرف سے دستخط کیے۔ دیگر دستخط کنندگان میں ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن، اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری شامل تھے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعتوں کے سیکریٹریٹ کے سربراہ ہالوک گورگن بھی تقریب میں موجود تھے۔

رائٹرز نے ترک وزارت کے حوالے سے بتایا کہ اس معاہدے کا عنوان ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ ہے اور اس کا مقصد دفاعی تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ یادداشت فوجی مشقوں اور تربیت، تحقیق و ترقی میں تعاون، اور چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کی مشترکہ کوششوں میں معاون ہوگی۔ ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو نے وزارت کے حوالے سے کہا کہ یادداشت جدید دفاعی نظاموں کی پیش رفت سے ہم آہنگ حل اور صنعتی شعبے تیار کرنے میں مدد دے گی۔

یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ دستاویز دفاعی پیداوار اور تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت ہے۔ جن رپورٹس کا ذکر کیا گیا ان میں اجتماعی دفاع کی کسی شق کا حوالہ شامل نہیں، اور پاکستان کی جانب سے سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔ ڈان نے اپنی خبر میں مزید تفصیلات آنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔

اس پیش رفت کا ایک پس منظر ہے۔ سات اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں نے مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نو اگست کو کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد کے دفاعی تجزیہ کاروں نے اسے نیٹو کے برابر قرار دینے میں احتیاط کا مشورہ دیا تھا۔

مکہ معاہدے کے بعد ترک وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ زمینی، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا، جس میں بغیر پائلٹ اور خودکار نظام، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سے قبل مئی میں خواجہ آصف نے اشارہ دیا تھا کہ قطر اور ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے موجودہ دفاعی تعاون کے ڈھانچے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب اس سے پہلے ستمبر 2025 میں بھی باہمی دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں۔

بدھ کو دستخط ہونے والی بدر یادداشت کے عملی دائرۂ کار، اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار اور پاکستان کی دفاعی صنعت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری سطح پر سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔

ذرائع: Dawn، Qatar Tribune

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔