وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا دورہ کریں گے، جہاں وہ صوبے میں سیکیورٹی انتظامات اور پولیس کی ضروریات کا جائزہ لیں گے۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس کی اضافی بھرتی اور مالی وسائل کی فراہمی پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس کے تحت صوبے کا انتظام وفاق کی حمایت یافتہ انتظامیہ کے پاس چلا گیا اور جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پس منظر میں چلی گئی۔ اسی کے ساتھ 12 مخصوص اضلاع کو ایک الگ انتظامی اور ترقیاتی ڈھانچے کے تحت لایا گیا ہے، جس کا سبب عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ بتایا گیا۔
ان اضلاع کی نگران کونسل کے اطلاعاتی مشیر محمود جان بابر نے عرب نیوز کو بتایا کہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں سیکیورٹی بنیادی نکتۂ اختلاف تھی، اور یہی مذاکرات ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ناکام ہو گئے۔ ان کے مطابق وزیراعظم پشاور میں سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے فیصلے کریں گے۔
محمود جان بابر کے مطابق پولیس کے نئے کمانڈ ڈھانچے میں 12 اضلاع کے لیے خصوصی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا ہے، جبکہ پولیس، فوج اور فیڈرل کانسٹیبلری مشترکہ طور پر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کریں گے۔ صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس بدستور مجموعی کمان سنبھالے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں پولیس کو فوج کے ساتھ آزادانہ کام کی اجازت نہیں تھی۔ یہ ان کا مؤقف ہے، اور پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمان شوکت یوسفزئی کا مؤقف رپورٹ شائع ہونے تک سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس اصلاحات کے لیے مرکز کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبائی پولیس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے دس بکتر بند گاڑیاں منتقل کی گئی ہیں، جبکہ مخصوص علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور احتجاج پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔ ترقیاتی ڈھانچے میں مقامی نمائندے، ایک ترقیاتی سیکریٹریٹ اور متعلقہ محکمے شامل ہوں گے، جو وزیراعظم کی نگرانی میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار جیسے شعبوں کی ترجیحات طے کریں گے۔
اپوزیشن کا مؤقف مختلف ہے۔ پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی میں تعاون نہیں کیا، اور اقدام کو غیر جمہوری قرار دیا ہے، جو ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب پارٹی کے ہزاروں کارکن اپنے قید رہنما کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا ہے، اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدامات صوبائی خودمختاری اور انتخابی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں امن اور انتظامی نظم بحال کرنا ہے۔
ذرائع: Arab News Pakistan