ملک کے کپاس اور جننگ کے شعبے نے سندھ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بغیر اطلاع چھاپوں اور ریکارڈ ضبط کرنے کی کارروائیوں پر شدید احتجاج کیا ہے اور ملک گیر بندش اور ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے شعبے کو مکمل آپریشنل تعطل کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے، اور یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب کپاس کی چنائی کا سیزن جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق چھاپے کپاس پیدا کرنے والے اہم مراکز سانگھڑ، ٹنڈو آدم اور شہداد پور میں مارے گئے، جس کے بعد کئی جننگ فیکٹریوں میں پیداوار اچانک رک گئی۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسیایشن کے عہدیداروں کا الزام ہے کہ ٹیکس حکام نے فیکٹریوں کے تالے توڑ کر مالی ریکارڈ قبضے میں لیے اور قانونی نوٹس کا طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ریجنل ٹیکس آفس حیدرآباد کے دائرہ اختیار میں کی گئیں۔
ملتان میں پی سی جی اے ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسیایشن کے چیئرمین سہیل محمود ہرال نے خبردار کیا کہ اگر حیدرآباد کے ریجنل ٹیکس آفس کی جانب سے ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ ہوا تو کاروباری برادری کے پاس تمام فعال یونٹس بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھاپوں کی بجائے معمول کے قانونی نوٹس جاری کیے جائیں۔
سہیل محمود ہرال نے ملتان اور بہاولپور کے ریجنل ٹیکس دفاتر کی تعریف کی کہ انہوں نے سخت کارروائی کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا۔ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے کہا کہ ان چھاپوں سے ملک بھر کی جننگ اور آئل ملز میں تشویش پھیل گئی ہے اور جاری فصلی سیزن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی چنائی کے دنوں میں پیداوار رکنے سے کاشتکاروں سمیت پوری سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
صنعتکاروں کے مطابق شعبہ پہلے ہی بجلی کے بھاری نرخوں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور اٹھارہ سے بائیس فیصد تک سیلز ٹیکس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق صرف مالی سال 2025-26 میں سو سے زائد جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہوئیں، جبکہ مجموعی طور پر پانچ سو سے زائد جننگ یونٹس، تقریباً سات سو آئل ملز، ایک سو پچھتر ٹیکسٹائل ملز اور سیکڑوں پاور لومز بند ہو چکے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ میں صرف صنعتکاروں کا مؤقف شامل ہے، جبکہ ایف بی آر یا ریجنل ٹیکس آفس حیدرآباد کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، اور ضبط کیے گئے ریکارڈ کی تعداد یا مالیت کی تفصیل بھی جاری نہیں کی گئی۔ اسی روز شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق برآمدی شعبے نے بھی مسابقتی صلاحیت کھونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ وزیر تجارت نے تسلیم کیا کہ توانائی، مال برداری اور ٹیکسوں کی لاگت کا دباؤ موجود ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسیایشن نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع: Dawn