امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کی صبح سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے، جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ اس بات چیت کے بعد ہو رہا ہے جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ مثبت قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق دورے کا مقصد ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تلخی کم کرنے اور روس کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پیش رفت کی کوشش کا حصہ ہے۔
روسی صدارتی مشیر برائے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کریل دمتریف نے سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکوو ایئرپورٹ پر وٹکوف کا استقبال کیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی ملاقات میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ورچوئل طور پر شریک ہوں گے۔ بھارت کے دورے کے دوران روبیو نے کہا کہ وٹکوف زیلنسکی سے ملنے کے بعد حاصل ہونے والے خیالات کے ساتھ روس جا کر انہیں روسی فریق کے سامنے رکھیں گے، اور دیکھا جائے گا کہ کیا کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
وٹکوف سے اوسلو میں ملاقات کے بعد زیلنسکی نے منگل کو واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے روسی حملوں سے متعلق امریکی انٹیلی جنس شیئرنگ بحال کر دی ہے۔ زیلنسکی کے مطابق بیلسٹک میزائل حملوں کی قبل از وقت اطلاعات یوکرین کے شہریوں، بچوں اور بڑوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق مثبت لہجہ کئی دنوں کی کشیدگی کے بعد سامنے آیا، جب ٹرمپ نے پوتن کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ کیا اور یوکرین کی جانب سے روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر حملے روکنے سے انکار کے بعد زیلنسکی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہوں نے پوتن سے امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے، جنہیں برسوں پہلے یوکرین میں روسی افواج نے حراست میں لیا تھا، تاہم واضح نہیں کہ یہ معاملہ بدھ کی بات چیت میں اٹھایا جائے گا یا نہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں زیلنسکی روس کے ساتھ معاہدہ کریں، اور انہوں نے فروری 2025 میں اوول آفس کی تلخ ٹی وی گفتگو میں پیش کی گئی شرائط قبول نہ کرنے پر بھی یوکرینی صدر پر تنقید کی۔ یوکرین نے ٹرمپ کی جانب سے روس پر پابندیوں میں رعایت دینے پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی۔
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دوران مشکل وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ چین میں پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، جس میں جوہری ہتھیاروں میں کمی پر بات ہو سکتی ہے اور یوکرین جنگ کا ذکر بھی آ سکتا ہے۔ اس سے کیف میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ یوکرین کے مستقبل سے متعلق کسی بھی بات چیت میں کیف کی مذاکرات کی میز پر موجودگی لازمی ہے۔
ذرائع: Dawn / AFP، Reuters (US News)