بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

نائیجیریا میں ایبولا کے پہلے کیس کی تصدیق، مریضہ سفارت کار؛ وائرس کی قسم بنڈی بوگیو نکلی

اے ایف پی کے مطابق مریضہ 3 اکتوبر کو یوگنڈا سے ابوجا پہنچی تھیں؛ 44 رابطہ افراد زیر نگرانی ہیں اور اس قسم کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔
ایبولا وائرس کی خوردبینی تصویر، علامتی
(علامتی تصویر) تصویر: Photo Credit: Dr. Frederick Murphy Content Providers(s): CDC/ Dr. Frederick A. Murphy / Wikimedia Commons (Public domain)

نائیجیریا نے ملک میں ایبولا کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق بدھ کو ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں بتایا گیا کہ کیس ایبولا کی اس قسم کا ہے جسے بنڈی بوگیو کہا جاتا ہے، اور یہی قسم ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں پھیلنے والی بڑی وبا کی ذمہ دار ہے۔ مریضہ ایک خاتون سفارت کار ہیں جو 3 اکتوبر کو یوگنڈا سے دارالحکومت ابوجا پہنچی تھیں۔

نائیجیریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (این سی ڈی سی) کے مطابق مریضہ کے تین سطحوں پر ٹیسٹ کیے گئے اور تینوں مالیکیولر تھے۔ این سی ڈی سی کی پبلک ہیلتھ لیبارٹری سروس کی ڈائریکٹر اولاجوموکے بابا تونڈے نے کہا کہ ٹیسٹ میں وائرس کی قسم بنڈی بوگیو سامنے آئی۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ مریضہ کی حالت بگڑ کر کئی اعضاء کے ناکارہ ہونے تک پہنچ چکی ہے۔

نائیجیریا نے اب تک 44 رابطہ افراد کی نشاندہی کی ہے جن کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ ایسے دیگر افراد کی تلاش تیز کی جا رہی ہے جو وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ایک بیان میں کہا کہ جس نجی ہسپتال میں مریضہ نے علاج کرایا وہاں انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے اقدامات بڑھائے جا رہے ہیں۔

بنڈی بوگیو قسم کے لیے اس وقت نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ کوئی مخصوص علاج۔ این سی ڈی سی کی ایک سابقہ ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ موجودہ ایبولا ویکسینیں اور اینٹی باڈی علاج بنیادی طور پر زائر قسم کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے اس وبا میں ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ایڈوائزری کے مطابق ایسی صورت میں بروقت اور بھرپور معاونتی علاج، یعنی مریض کی حالت کو سہارا دینے والی طبی دیکھ بھال، خاص اہمیت رکھتی ہے۔

ڈی آر سی میں وبا کا اعلان مئی کے وسط میں کیا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق ڈی آر سی کے صحت حکام کے اعداد و شمار کی روشنی میں یہ وبا ملک کی تاریخ کی مہلک ترین وبا بن چکی ہے، جس میں 9 ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز میں سے 4,381 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ وبا یوگنڈا سمیت افریقہ کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کاسیا نے منگل کو اسے ایک انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا، جب کینیا نے اپنا نواں ایبولا کیس رپورٹ کیا۔

این سی ڈی سی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا تھا کہ ماضی میں ایبولا کے ایک درآمد شدہ کیس پر نائیجیریا کی کامیاب روک تھام جلد شناخت، مضبوط قیادت، فوری ہم آہنگی، رابطوں کی باقاعدہ تلاش، سخت انفیکشن کنٹرول اور عوامی اعتماد کی مرہون منت تھی۔ ادارے نے طبی عملے کو بھی ہدایت کی تھی کہ علامات اور سفر یا رابطے کی تاریخ مطابقت رکھتی ہو تو خون بہنے کا انتظار کیے بغیر ایبولا کا شبہ کیا جائے۔ ڈیلی ٹرسٹ کے مطابق این سی ڈی سی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی علامات ملیریا اور لاسا بخار سے ملتی جلتی ہیں، جو نائیجیریا میں پائے جاتے ہیں۔

ذرائع: Dawn / AFP، NCDC Nigeria، Nairametrics، Daily Trust

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔