جمعے کو اردن کے جنوبی صوبے کرک کے گاؤں حمود میں ایک گریک آرتھوڈوکس چرچ پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، جو ڈان میں شائع ہوئی، حملہ آوروں نے ایک جنازے کے دوران چرچ کے احاطے میں داخل ہو کر فائرنگ کی۔ حکام کے مطابق مسلم اکثریتی ملک میں مسیحیوں پر اس طرح کا حملہ نایاب ہے۔
اردن کے محکمۂ پبلک سیکیورٹی کے بیان کے مطابق حملہ آور گاڑی سے اترے اور جنازے کے جلوس پر فائرنگ شروع کر دی۔ ابتدا میں ہلاکتوں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی جو بعد میں سات ہو گئی، جبکہ 34 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 27 اس وقت بھی زیرِ علاج تھے۔ بعض دیگر رپورٹس میں ہلاکتیں آٹھ اور عرب نیوز کے مطابق زخمی کم از کم 40 بتائے گئے ہیں۔ اعداد و شمار مختلف رپورٹس میں مختلف ہیں اور صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔
ریاستی نشریاتی ادارے المملکہ کی فوٹیج کے مطابق دو حملہ آور عام لباس میں پستولوں کے ساتھ دکھائی دیے جبکہ تیسرے کے پاس لمبی بندوق تھی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق تین مسلح افراد نے جنازے کے دوران فائرنگ کی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آوروں نے مسلسل تقریباً پانچ منٹ تک گولیاں چلائیں اور پھر فرار ہو گئے، اور اس وقت چرچ کے اندر اور باہر 150 سے 200 افراد موجود تھے۔
الجزیرہ کے مطابق بچ جانے والوں نے بتایا کہ جنازے کا جلوس شروع ہوتے ہی دھماکے جیسی آواز سنائی دی، جس کے بعد نقاب پوش حملہ آوروں نے چرچ میں گھس کر کئی منٹ تک فائرنگ کی۔ الجزیرہ کے مطابق کسی گروہ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق حکام نے حملہ آوروں کو انتہا پسند گروہ قرار دیا ہے، تاہم محرک کے بارے میں مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
شاہ عبداللہ دوم نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ کرک پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا سخت ترین جواب دیا جائے گا اور جو لوگ ملک کے لیے خطرہ بننے کی جرأت کریں گے ان کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ المملکہ کی تصاویر کے مطابق وہ جمعے کی شام کرک پہنچے، جبکہ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اردن کے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ملکہ رانیا نے اسے عبادت گزاروں کے خلاف گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے تمام اردنیوں کو متاثر کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق حمود کا چرچ گریک آرتھوڈوکس ہے، جو اردن کی سب سے بڑی مسیحی برادری ہے۔ کرسچن سائنس مانیٹر کے مطابق کرک کا علاقہ صدیوں سے مسلم اور مسیحی بقائے باہمی کے لیے جانا جاتا ہے۔
پاکستان نے اردن کے ضلع کرک میں جنازے کے جلوس پر اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ڈان کے مطابق ایک بیان میں اسے گھناؤنا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برادر اردنی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
ذرائع: ڈان / اے ایف پی، الجزیرہ، عرب نیوز، ٹائمز آف اسرائیل، کرسچن سائنس مانیٹر، ڈان (پاکستان کا ردِعمل)