برازیل کے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی مدت کے لیے صدارت حاصل کر لی ہے۔ اتوار کو ہونے والی رائے شماری کے بعد برازیل کی اعلیٰ انتخابی عدالت نے سو فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر بتایا کہ لولا کو 51.76 فیصد جبکہ فلاویو بولسونارو کو 48.24 فیصد ووٹ ملے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان فرق تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کا رہا۔
لولا، جو جلد اکیاسی برس کے ہو جائیں گے، مسلسل نہیں بلکہ چوتھی مرتبہ ملک کی صدارت سنبھالیں گے۔ اے پی کے مطابق وہ جنوری میں نیا عہدہ سنبھالیں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ان کی جیت کے بعد برازیل واشنگٹن سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ لاطینی امریکا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، برازیل اور میکسیکو، دونوں میں اب بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی قیادت موجود ہے۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ چار اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں فلاویو بولسونارو آگے رہے تھے اور انہوں نے لولا پر بائیس لاکھ سے زائد ووٹوں کی سبقت حاصل کی تھی۔ سی این بی سی کے مطابق 1989 میں براہِ راست انتخابات کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں پیچھے رہنے کے باوجود فیصلہ کن مرحلے میں کامیاب ہوا ہو۔ فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اتحادی بتایا جاتا ہے۔
پولنگ کے دن کی صورتِ حال خاصی الجھی رہی۔ اے پی کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زینن نے مقررہ وقت ختم ہونے سے صرف تین منٹ پہلے حکم دیا کہ ووٹنگ مزید دو گھنٹے جاری رکھی جائے۔ یہ فیصلہ دونوں امیدواروں کی درخواستوں پر کیا گیا۔ بولسونارو کی درخواست جنوبی برازیل میں شدید بارش کی وجہ سے تھی، جہاں انہیں برتری حاصل سمجھی جاتی ہے، جبکہ لولا کی انتخابی مہم نے بعض اہم علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہونے اور ووٹروں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات عائد کیے۔ انتخابی عدالت کے سربراہ کاسیو نونیس مارکس کے مطابق ریاست باہیا میں بسوں کے مسائل سے متعلق موصول ہونے والی شکایت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نتیجے کے اعلان کے بعد فلاویو بولسونارو نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ رائٹرز کے حوالے سے سی این بی سی نے بتایا کہ انہوں نے انتخابی نتیجہ کالعدم قرار دلوانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا اور ووٹنگ کا وقت بڑھانے کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا۔ اے پی نے لکھا ہے کہ جج کے اس فیصلے پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ مؤقف بولسونارو کا ہے، جبکہ انتخابی عدالت نے نتیجے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اے پی کے مطابق 1990 کی دہائی میں الیکٹرانک ووٹنگ نظام اپنانے کے بعد سے برازیل میں کوئی نمایاں دھاندلی ثابت نہیں ہوئی۔
ذرائع: اے پی / پی بی ایس نیوز آور، سی بی ایس نیوز، سی این بی سی