وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم یوتھ کروم بک اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ دو برس کے دوران ملک بھر کے طلبہ میں پانچ لاکھ کروم بک لیپ ٹاپ تقسیم کرے گی۔ ڈان کے مطابق انہوں نے تقریب کے آغاز میں کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ان کا فرض اور ریاست کی اجتماعی ذمہ داری ہے، تاکہ وہ پاکستان کے عظیم معمار بن سکیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کے بیٹے بیٹیاں پاکستان کا حقیقی اثاثہ ہیں اور کروم بکس نوجوانوں کی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان آلات کی مدد سے طلبہ دور بیٹھ کر بھی تعلیم حاصل کر سکیں گے اور ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہانت اور محنت کو غربت کی وجہ سے محدود نہیں رہنا چاہیے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ یہ سہولت دینی مدارس کے طلبہ کے لیے بھی دستیاب ہے اور ماضی میں بھی نمایاں مدارس کے طلبہ کو جامعات اور کالجوں کے طلبہ کے ساتھ لیپ ٹاپ دیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ لاکھ کروم بکس صرف اور صرف نوجوانوں کی صلاحیت کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی، تاکہ یہ آلات انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے اور مستقبل میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکیں۔
وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومتیں ایک دہائی کے دوران چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کر چکی ہیں۔ اگست میں عالمی یومِ نوجواناں کے موقع پر انہوں نے بتایا تھا کہ رواں سال دو لاکھ پچاس ہزار نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو کروم بک لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں پہلی گوگل کروم بک اسمبلی لائن کا آغاز بھی کیا گیا تھا، جسے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے تاریخی سنگِ میل قرار دیا تھا۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران سات لاکھ کروم بکس فراہم کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔ اے پی پی اور جیو نیوز کی رپورٹوں کے مطابق یہ لیپ ٹاپ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ کو مرحلہ وار دیے جانے تھے اور اس کے ساتھ ایک قومی مانیٹرنگ نظام بھی متعارف کرانے کی بات کی گئی تھی۔ ڈان کی تازہ رپورٹ میں تعداد کے اس فرق کی وضاحت شامل نہیں۔
تعلیمی خبروں کی ویب سائٹ ایڈویژن کے مطابق اسکیم 2026 میں سرکاری اسکولوں کے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو شامل کیا گیا ہے، جن کا انتخاب 2026 کے سالانہ امتحانات کے نتائج پر ہو گا۔ صوبوں میں نویں جماعت کے طلبہ اہل قرار دیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ شامل ہوں گے۔ ایڈویژن کے مطابق تعلیمی بورڈ شارٹ لسٹ طلبہ کے نام آئی بی سی سی کو بھیجیں گے۔
ذرائع: ڈان (نیوز ڈیسک)، جیو نیوز (اے پی پی)، ایڈویژن