اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے کوری کے علاقے میں پلاٹ نکالنے اور فروخت کرنے کے منصوبے نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے دو سرکاری جامعات کے منصوبوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے ان پلاٹس کو نشونما دے رہی ہے جو پہلے ہی ایچ ای سی کو دو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے الٹ کی جا چکی تھیں۔
ایچ ای سی کے بقول سال 2007 میں کمیشن نے سی ڈی اے سے کوری میں 250 ایکڑ زمین خریدی تھی تاکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف لاء قائم کی جا سکیں، اور اس کے لیے ایک ارب روپے سے زائد کی مکمل ادائیگی کی گئی تھی۔ بعد میں سی ڈی اے نے ڈی ایچ اے کے اشتراک سے کوری میں تقریباً 18 ہزار کنال پر مارگلہ انکلیو کے نام سے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی، جس میں ایچ ای سی کو الٹ کی گئی زمین بھی شامل ہو گئی۔
ایچ ای سی کے ذرائع کے مطابق سی ڈی اے اب سیکٹر آئی 17 میں متبادل زمین پیش کر رہی ہے، لیکن صرف تقریباً 25 ایکڑ، جبکہ کمیشن نے 250 ایکڑ خریدے تھے۔ کمیشن کے ایک اہلکار نے کہا کہ کوری میں الٹ شدہ 250 ایکڑ کا قبضہ بلا تاخیر دیا جانا چاہیے، اور اگر وہاں زمین دستیاب نہیں تو کم از کم 250 کنال کہیں اور دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی 17 انہوں نے نہیں مانگا، یہ سی ڈی اے کی مرضی ہے۔
سی ڈی اے بورڈ نے سال 2025 میں فیصلہ کیا تھا کہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے مخصوص پلاٹس ادارجاتی سیکٹر آئی 17 میں منتقل کیے جائیں گے۔ ڈان کے مطابق کوری کے اس مسئلے کی نشاندہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی سالوں پہلے کی تھی، اور اس سال جون میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسے فوری حل کی ہدایت کی۔ ایچ ای سی کے ذرائع کے مطابق اس ہدایت کے بعد بھی انہیں مطلوبہ زمین نہیں ملی۔
سی ڈی اے بورڈ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ ایکانمکس (پائیڈ) کے زمین کے معاملے پر بھی غور کیا۔ اس ادارے کو پہلے ایچ 11 میں زمین الٹ ہوئی جو بعد میں منسوخ کر دی گئی، پھر ایچ 16 میں 17.5 ایکڑ دیے گئے مگر وہ زمین متنازعہ رہی اور سی ڈی اے کے قبضے میں نہ تھی۔ اب اسی سیکٹر میں 13 ایکڑ کا نیا قبضہ رکھنے والا پلاٹ منتخب کیا گیا ہے، جو اس ادارے کو پیش کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق ممکنہ طور پر پلاٹ کے سائز کے مطابق قیمت میں ردوبدل کیا جائے گا۔
سی ڈی اے بورڈ کے پیر کے اجلاس میں ایچ ای سی کے معاملے پر فیصلہ نہیں ہو سکا اور ذرائع کے مطابق اسے آئندہ اجلاس میں اٹھایا جانے کا امکان ہے۔ بورڈ کے فیصلوں کی تفصیلات عوامی نہیں کی گئیں۔ یہ تمام مؤقف سرکاری اداروں کے ذرائع اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق بیان کیے گئے ہیں، اور سی ڈی اے کی جانب سے مزید وضاحت سامنے آنے پر اس خبر میں شامل کی جائے گی۔
ذرائع: ڈان: CDA land development puts HEC varsity plans at stake