منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

جامعہ کراچی پر لا کالجز کے تقریباً 150 ناکام طلباء کو نظرِ ثانی میں پاس کرنے کے الزامات

پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق کراچی یونیورسٹی پر الزام ہے کہ لا کالجز کے تقریباً 150 ناکام طلباء کو نظرِ ثانی کے ذریعے پاس کیا گیا۔ رپورٹ میں کسی رسمی فیصلے یا مؤقف کی تصدیق شامل نہیں۔
جامعہ کراچی کے سلور جبلی گیٹ کی فائل تصویر
تصویر: King Eliot / Wikimedia Commons / CC BY-SA 4.0

جامعہ کراچی کے امتحانی نظام پر ایک نئی رپورٹ سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پرو پاکستانی کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کراچی یونیورسٹی پر الزام ہے کہ اس نے الحاق شدہ لا کالجز کے تقریباً 150 ناکام طلباء کو نظرِ ثانی کے عمل کے ذریعے پاس کر دیا، جو مبینہ طور پر امتحانی ضوابط کی خلاف ورزی تھی۔ اس رپورٹ میں درج الزامات کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کیا کہتی ہے

رپورٹ کے مطابق ایس ایم لا کالج اور اسلامیہ لا کالج کے طلباء نے بی اے ایل ایل بی کے امتحانات میں پہلے ناکامی دکھائی، لیکن نظرِ ثانی کے بعد ان کا نتیجہ بدل گیا۔ کچھ طلباء کے بارے میں الزام ہے کہ ان کے نمبر آبلیگیشنز اور پاکستان اسٹڈیز کے پرچوں میں صفر یا بہت کم تھے، مگر بعد میں انہیں 50 سے 65 نمبر دیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں اس وقت کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو کی منظوری سے ہوئیں، اور یہ منظوری ایک کمیٹی کی سفارشات پر دی گئی، جس میں لا کے ڈین، کالجوں کے نمائندے اور کنٹرولر امتحانات شامل تھے۔

سابق وائس چانسلر کا موقف

سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ انہوں نے طلباء کی اجتماعی درخواست کو آگے بڑھانے سے انکار کیا تھا، کیونکہ نظرِ ثانی کی درخواستیں انفرادی طور پر دینے کا ضابطہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سالانہ امتحانات کے قواعد نمبروں کی دوبارہ گنتی یعنی ری کاؤنٹنگ کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ یعنی ری چیکنگ کی اجازت نہیں شاملہ۔

ایک اور موقف

ایس ایم لا کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید داو نے اس اقدام کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق اسلامیہ لا کالج کے ایک استاد نے 180 طلباء کو ناکام کیا تھا، اور کمیٹی نے ان طلباء کو ریلیف دیا جن کے بارے میں موقف تھا کہ ان سے ناانصافی ہوئی۔ اس تضاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ انتظامی اختلاف کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اب کیا معلوم نہیں

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں کسی رسمی فیصلے یا بد انتظامی کی تصدیق سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی مذکورہ قائم مقام وائس چانسلر اور کنٹرولر امتحانات کا مؤقف شامل ہے۔ ہم نے بھی جامعہ کراچی کی جانب سے کوئی بیان نہیں دیکھا، اس لیے آنے والی تفصیل پر یہ خبر مزید اپ ڈیٹ ہو سکتی ہے۔ پرو پاکستانی نے گزشتہ چند دنوں میں جامعہ کے مالی بحران اور قائم مقام وائس چانسلر کی تبدیلی پر بھی الگ سے رپورٹس شائع کیں، جن کی سرخیاں جامعہ کے انتظامی حالات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ طلباء کے مستقبل اور امتحانی اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیق ہو اور نتیجہ سامنے لایا جائے۔

ذرائع: ProPakistani

ماخذ: ProPakistani

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔