خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مؤقف ایک دوسرے سے متضاد سامنے آئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق وفاقی وزرا نے فیصلے کو دہشت گردی کے خلاف ناگزیر اقدام قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں نے اسے غیر آئینی اور غیر جمہوری کہہ کر مسترد کر دیا۔ نیچے دیے گئے دعوے متعلقہ بیان دینے والوں سے منسوب ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
وفاقی حکومت کا مؤقف
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبائی حکومت کو ساتھ ملانے کی کوششیں ایک ماہ جاری رہیں اور پی ٹی آئی قیادت سے آخری رابطہ ہفتے کی رات پونے بارہ بجے ہوا۔ ان کے مطابق 12 اضلاع میں حالات اتنے خراب ہیں کہ شہری غروبِ آفتاب کے بعد گھروں سے نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ سال میں دہشت گرد واقعات میں 195 فیصد اور ہلاکتوں میں 113 فیصد اضافہ ہوا اور 518 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے واقعات میں 196 فیصد اضافے کا ذکر کیا اور آرٹیکل 149(4)، 232 اور 234 کا حوالہ دیا، جبکہ وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے صوبائی حکومت پر دہشت گرد گروہوں سے روابط کا الزام لگایا۔ یہ الزامات ان کے اپنے ہیں اور پی ٹی آئی انہیں مسترد کرتی ہے۔
پی ٹی آئی اور اتحادیوں کا ردِعمل
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے سے اختلاف نہیں، مگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسئلہ 12 اضلاع میں ہے تو پورے صوبے میں گورنر راج کیوں لگایا گیا؟ انہوں نے ایمرجنسی کو “سنگین سیاسی غلطی” قرار دیتے ہوئے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق مذاکرات تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہے تھے اور لانگ مارچ کا اعلان واپس نہیں لیا گیا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت اپنے وعدے سے پھر گئی اور ان کی جماعت یہ معاملہ عدالتوں، پارلیمنٹ اور عوام میں اٹھائے گی۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی اقدامات واپس لے کر مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
مارچ کی صورتحال
ٹریبیون کے مطابق سوابی میں پولیس نے 59 اور ضلع خیبر میں چھ پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا۔پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، مگر رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر سرکاری تصدیق دستیاب نہیں تھی۔
قانونی بحث
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی ٹی آئی پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ ایک سابق لا افسر کے نزدیک بدنیتی اور آئینی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر اس اقدام کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایڈووکیٹ حافظ احسن احمد کھوکھر کے مطابق آرٹیکل 236(2) کے تحت ایسے اعلامیوں کی صحت پر عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔یوں قانونی ماہرین اس معاملے پر منقسم نظر آتے ہیں۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (Govt defends K-P emergency)، ایکسپریس ٹریبیون (PTI march fizzles out after K-P emergency, arrests)، ایکسپریس ٹریبیون (Maulana Fazl accuses govt of U-turn)، ایکسپریس ٹریبیون (PTI may challenge emergency in court)