منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر، فضائی آلودگی کا انڈیکس 410 ریکارڈ

آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور جمعے کی صبح 410 انڈیکس کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر رہا؛ نئی دہلی 203 کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔
پاکستانی پنجاب پر اسموگ کی سیٹلائٹ تصویر (ناسا، نومبر 2024)
سیٹلائٹ فائل تصویر (نومبر 2024) — آج کی صورتحال کی عکاس نہیں۔ تصویر: MODIS Land Rapid Response Team, NASA GSFC / Wikimedia Commons (Public domain)

لاہور جمعے کی صبح ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ فضائی معیار پر نظر رکھنے والے عالمی پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کے لائیو ٹریکر کے مطابق شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410 ریکارڈ ہوا۔ ڈان نے اپنی سرخی میں فضائی معیار کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

اسی فہرست میں نئی دہلی 203 کے ساتھ دوسرے اور سینیگال کا شہر ڈاکار 196 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ ڈان کے مطابق لاہور واحد پاکستانی شہر تھا جو جمعے کی صبح دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا، جبکہ کراچی 21 شہروں کی فہرست میں 110 انڈیکس کے ساتھ واحد دوسرا پاکستانی شہر تھا۔

آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما سطح سے 45.2 گنا زیادہ تھی۔ منٹ مرر اور ڈائیلاگ پاکستان کی رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھلی فضا میں ورزش سے گریز کریں، کھڑکیاں بند رکھیں، باہر نکلتے وقت مناسب ماسک پہنیں اور ممکن ہو تو گھروں میں ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔

پنجاب حکومت کے فضائی معیار کی نگرانی کے پلیٹ فارم نے جمعرات کو صبح 11 بجے لاہور کا انڈیکس 339 ریکارڈ کیا، جو شہر کے دس مانیٹرنگ اسٹیشنز کے اعداد و شمار پر مبنی تھا اور ’بہت غیر صحت بخش‘ زمرے میں آتا ہے۔ اس سے پہلے دو اکتوبر کو بھی لاہور آئی کیو ایئر کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آیا تھا، تاہم اس روز انڈیکس 167 تھا جو ’غیر صحت بخش‘ سمجھا جاتا ہے۔

شہریوں کی جانب سے بھی اثرات کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ منٹ مرر کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن شیخ ثاقب نے بتایا کہ ان کے دو بچے گلے کے انفیکشن کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اب بھی لاہور کی سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ یہ ایک شہری کا مؤقف ہے اور حکومت کا ردعمل اس رپورٹ میں شامل نہیں۔

ڈیلی ٹائمز نے تین اکتوبر کی رپورٹ میں لکھا تھا کہ لاہور سمیت ملک کے کئی شہر سردیوں میں اسموگ سے دوچار رہتے ہیں اور اس مظہر کو بنیادی طور پر صنعتی اخراج، گاڑیوں کی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانے اور ہوا کی نقل و حرکت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی موقع پر ڈان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ حکومت ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے اور ان کے بقول گزشتہ تین برس سے اسموگ کم ہوئی ہے، اگرچہ انہوں نے اسے صفر نہیں کہا۔

دستیاب رپورٹس میں آج کے اعداد و شمار کے جواب میں کسی نئے سرکاری اعلان کا ذکر شامل نہیں۔ محکمہ ماحولیات پنجاب یا حکومت کا ردعمل اور نئے اقدامات سامنے آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔ سانس، دل یا الرجی کے مسائل کا شکار افراد کو چاہیے کہ آلودہ دنوں میں احتیاط کریں اور ضرورت پڑنے پر معالج سے رجوع کریں۔

ذرائع: ڈان، منٹ مرر، ڈائیلاگ پاکستان، ڈیلی ٹائمز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔