منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پتوکی کے ماڈل اسکول میں بچوں سے مشقت لینے کی مبینہ تصاویر؛ وزیرِ تعلیم پنجاب کا نوٹس، تحریری وضاحت طلب

سوشل میڈیا پر بچوں سے اسکول میں مشقت کروانے کی مبینہ تصاویر سامنے آنے پر رانا سکندر حیات نے نوٹس لے کر ڈی ڈی ای او پتوکی کو کارروائی کی ہدایت کی؛ الزامات انکوائری کے مرحلے میں ہیں۔
ایک سرکاری اسکول کی عمارت (علامتی تصویر)
تصویر: USAID Pakistan / Wikimedia Commons / Public domain

پتوکی: ضلع قصور کے شہر پتوکی میں ایک ماڈل اسکول میں بچوں سے مبینہ طور پر جسمانی مشقت کروانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے نوٹس لے لیا ہے۔ 24 نیوز ایچ ڈی کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ڈی ای او) پتوکی نے اسکول انتظامیہ کو تحریری وضاحت جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

معاملہ کیا ہے

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں مبینہ طور پر بچے اسکول کی حدود میں مشقت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیرِ تعلیم کے نوٹس لینے کے بعد ڈی ڈی ای او پتوکی نے سرائے مغل مصطفائی ماڈل اسکول، حکیم والا بازار کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ تحریری وضاحت جمع کرائے اور اپنا ریکارڈ لے کر متعلقہ دفتر میں ذاتی طور پر پیش ہو۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ الزامات تاحال انکوائری کے مرحلے میں ہیں اور کارروائی سے پہلے اسکول انتظامیہ کو اپنا مؤقف اور ریکارڈ پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اب تک اسکول انتظامیہ کا مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں۔

قانونی اور اخلاقی پہلو

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 11(3) کے تحت چودہ برس سے کم عمر بچوں کو کسی کارخانے، کان یا کسی اور خطرناک ملازمت میں نہیں لگایا جا سکتا، جبکہ آرٹیکل 25-اے ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانچ سے سولہ برس کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ 24 نیوز ایچ ڈی نے لکھا کہ طلبہ سے مشقت لینا اخلاقی سوال بھی اٹھاتا ہے، اور اسکولوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھیں۔ رپورٹ کے مطابق طلبہ کو دیا جانے والا کوئی بھی کام اس بات کا جائزہ لے کر دیا جانا چاہیے کہ وہ ادارے کے عملے کا متبادل تو نہیں بن رہا اور بچوں کی تعلیم یا وقار میں رکاوٹ تو نہیں ڈال رہا۔

بچوں سے مشقت پر پنجاب حکومت کا مؤقف

اسی روز وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے بین الاقوامی ادارۂ محنت (آئی ایل او) کے وفد کو پنجاب میں لیبر قوانین پر عمل درآمد کے بارے میں بریفنگ دی۔ 24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد 2026 میں پنجاب لیبر کوڈ نافذ کیا گیا، اور لیبر قوانین کے نفاذ، سوشل سیکیورٹی، رہائش اور مزدوروں کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے اقدامات کے مثبت نتائج آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں جبری چائلڈ لیبر کے 70,000 سے زیادہ کیسز کی نشاندہی ہوئی اور بچوں کو مشقت سے نکالنے کی کوششوں کے نتیجے میں 3,644 بچوں کو اسکول بھیجا گیا۔

آگے کیا ہوگا

ڈی ڈی ای او کے دفتر میں اسکول انتظامیہ کی پیشی اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی طے ہوگا کہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو متعلقہ قوانین اور محکمانہ قواعد کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے؛ ایسی صورت میں بھی اسکول انتظامیہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب حکومت کے دعوے کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں؛ پتوکی کے اسکول کے معاملے میں حقائق انکوائری مکمل ہونے پر واضح ہوں گے۔ شہری اگر کسی ادارے میں بچوں سے مشقت لیے جانے کی شکایت کرنا چاہیں تو متعلقہ ضلعی تعلیمی دفتر یا چائلڈ پروٹیکشن اداروں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

ذرائع: 24 نیوز ایچ ڈی، 24 نیوز ایچ ڈی (مریم نواز کی بریفنگ)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔