بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پشاور اسکول سانحہ: متاثرہ خاندانوں کا انصاف کا مطالبہ، گورنر کنڈی کا فی خاندان 10 لاکھ روپے امداد اور اسکولوں کے آڈٹ کا اعلان

آفریدی آباد میں چھت گرنے سے جاں بحق بچوں کے والدین نے انصاف مانگ لیا؛ گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق اسکول مالک گرفتار ہے اور نجی و سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا آڈٹ ہوگا۔
پاکستان کے ایک سرکاری اسکول کے کلاس روم میں طلبہ (فائل/علامتی تصویر، پشاور واقعے کی نہیں)
تصویر: USAID Pakistan / Wikimedia Commons (Public domain)

پشاور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے آفریدی آباد میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے ایک دن بعد جمعے کو جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو پیش آنے والے اس سانحے میں طلبہ اور ایک خاتون استاد سمیت تیس سے زائد افراد جان سے گئے تھے، جبکہ حکام نے واقعے کی وجہ عمارت کی خستہ حالی کو قرار دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے درزی محمد وہاب، جن کا گیارہ سالہ بھتیجا حماد اس سانحے میں جان سے گیا، نے کہا کہ ان تمام بچوں کے والدین کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہوں نے حکمرانوں سے اپیل کی اور بتایا کہ حماد پڑھائی میں اچھی کارکردگی دکھا رہا تھا۔

ایک اور والد اسداللہ نے بتایا کہ اس سانحے میں ان کا بیٹا، بھتیجا اور تین دیگر قریبی رشتہ دار جان سے گئے۔ ان کے مطابق بچے شوق سے روزانہ اسکول جاتے تھے اور اکثر اپنی کلاسوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے تھے۔ جمعے کو درجنوں افراد اسکول کے باہر جمع ہوئے اور جاں بحق بچوں کے لیے دعا کی، جبکہ اسکول کا داخلی دروازہ سرکاری طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعے کو پریس کانفرنس میں کہا کہ غفلت کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے گا، پندرہ دن کے اندر قانونی کارروائی کی جائے گی اور قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

گورنر نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے دس لاکھ روپے اور ہر زخمی کے لیے تین لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کی آڈٹ رپورٹیں چار سے پانچ دن میں پیش کی جائیں گی، جبکہ سرکاری اسکولوں کی رپورٹس کے لیے پندرہ دن دیے گئے ہیں۔ گورنر کے بقول آڈٹ کے بعد کسی عمارت میں حادثہ ہوا تو متعلقہ آڈیٹر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور نے ایک ویڈیو پیغام میں شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں خستہ حال اسکولوں کی ویڈیوز حکام کے ساتھ شیئر کریں۔ ان کے مطابق ایک ویڈیو موصول ہونے کے بعد مردان کے گاؤں گمبت میں انسپیکشن ٹیم بھیجی گئی ہے، جبکہ گورنر ایڈوائزری کونسل نے اسکولوں کے معائنے کے لیے چار دن کی مہلت دی ہے۔

سانحے کے بعد چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے جمعرات کو ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جسے سات دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس واقعے کو حادثہ نہیں بلکہ قابلِ انسداد ناکامی قرار دیا اور یاد دلایا کہ رواں سال جون میں لاہور میں اسی طرح کے ایک واقعے میں چودہ طلبہ جان سے گئے تھے۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، اے ایف پی بذریعہ ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔