منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

دماغی کینسر گلیوبلاسٹوما کے لیے تجرباتی ویکسین کے درمیانے مرحلے کے نتائج؛ مجموعی بقا میں 2.5 ماہ کا اضافہ

کینسر ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق سرواکس ایم نے نئی تشخیص شدہ گلیوبلاسٹوما کے مریضوں میں اوسط بقا 2.5 ماہ بڑھائی؛ 65 سال یا کم عمر گروہ میں بہتری شماریاتی لحاظ سے نمایاں رہی۔
دماغی رسولی کے ایم آر آئی اسکین کی تصویر
تصویر: Wikimedia Commons / Public domain

نیویارک: دماغ کے سب سے عام اور جارحانہ بنیادی کینسر گلیوبلاسٹوما کے لیے تیار کی جانے والی ایک تجرباتی ویکسین کے درمیانے مرحلے کی آزمائش کے نتائج اس ہفتے سامنے آئے ہیں۔ کینسر ہیلتھ کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ویکسین “سرواکس ایم” نے مریضوں کی مجموعی بقا میں اوسطاً 2.5 ماہ کا اضافہ کیا، اور 65 سال یا اس سے کم عمر مریضوں میں یہ بہتری شماریاتی لحاظ سے نمایاں رہی۔ یہ ویکسین ابھی تجرباتی ہے اور علاج کے طور پر منظور شدہ نہیں۔

آزمائش کیسے ہوئی

“سروائو” نامی کلینکل ٹرائل (NCT05163080) میں ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جنہیں نئی نئی گلیوبلاسٹوما تشخیص ہوئی تھی اور جنہوں نے معیاری علاج، یعنی سرجری، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی کی دوا ٹیموزولومائیڈ لی تھی۔ آزمائش میں کچھ مریضوں کو ویکسین دی گئی اور کچھ کو پلیسیبو، یعنی بے اثر دوا، تاکہ دونوں گروہوں کا موازنہ کیا جا سکے۔ گلیوبلاسٹوما بالغوں میں بنیادی دماغی کینسر کی سب سے عام اور جارحانہ قسم ہے۔ عام طور پر اس کے علاج میں سرجری، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی شامل ہوتی ہیں۔ اس ویکسین کا مقصد مریض کے مدافعتی نظام کو ٹیومر سے جڑے مخصوص پروٹین کے خلاف تیار کرنا بتایا جاتا ہے۔

نتائج

پورے مطالعے میں ویکسین سے مجموعی بقا میں 2.5 ماہ کا اضافہ دیکھا گیا، مگر یہ فرق پوری آبادی کے لیے شماریاتی اہمیت کی حد تک نہیں پہنچا۔ البتہ 65 سال یا کم عمر ذیلی گروہ میں بہتری نمایاں رہی: ویکسین لینے والوں کی اوسط بقا 24.2 ماہ جبکہ پلیسیبو گروہ کی 20.2 ماہ رہی۔ اسی ذیلی گروہ میں 12 ماہ پر بیماری کے بڑھے بغیر زندہ رہنے کی شرح ویکسین گروہ میں 44 فیصد اور پلیسیبو گروہ میں 24 فیصد رہی۔

حفاظت اور ضمنی اثرات

رپورٹ کے مطابق ویکسین کو عمومی طور پر قابلِ برداشت قرار دیا گیا۔ سب سے عام ضمنی اثرات انجکشن کی جگہ پر درد اور سوجن، اور فلو جیسی علامات تھیں۔ سنگین منفی واقعات کی شرح بلند مگر دونوں گروہوں میں تقریباً برابر رہی۔ ویکسین گروہ میں یہ 48 فیصد اور پلیسیبو گروہ میں 46 فیصد رہی۔

اس کا کیا مطلب ہے

گلیوبلاسٹوما کے مریضوں کے لیے علاج کے محدود آپشنز کے باعث نئی تھراپیز میں دلچسپی بہت ہے۔ تاہم درمیانے مرحلے کے نتائج ابتدائی ہوتے ہیں: ان سے یہ طے نہیں ہوتا کہ کوئی ویکسین عام استعمال کے لیے محفوظ اور مؤثر ہے۔ اس کے لیے عموماً بڑے اور آخری مرحلے کے مطالعات اور ریگولیٹری منظوری درکار ہوتی ہے۔ شماریاتی لحاظ سے نمایاں فائدہ صرف ایک ذیلی گروہ میں دیکھا گیا ہے، اس لیے اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ مریض یا ان کے اہلِ خانہ کسی بھی تجرباتی علاج کے بارے میں اپنے معالج سے مشورہ کریں اور غیر مصدقہ دعووں پر بھروسا نہ کریں۔ کینسر ویکسینز عموماً مریض کے مدافعتی نظام کو ٹیومر سے منسلک پروٹینز کو پہچاننے کی تربیت دیتی ہیں، اور اس سمت میں تحقیق جاری رہی ہے۔

ذرائع: کینسر ہیلتھ

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔