منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی، کم از کم چار مسافر جاں بحق، 30 سے زائد زخمی

پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس شیر شاہ اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی؛ وزیرِ ریلوے نے انکوائری افسر مقرر کر دیا، ہلاکتوں کی تعداد پر سرکاری بیانات میں فرق۔
ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کی فائل تصویر (علامتی؛ حادثے کی تصویر نہیں)
علامتی تصویر: Fahads1982، CC BY-SA 4.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

پنجاب کے ضلع ملتان میں منگل کی صبح پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار مسافر جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ڈان کے مطابق وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے حادثے کے مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔

ہلاکتوں کی تعداد پر ابتدا میں مختلف بیانات سامنے آئے۔ ریلوے کے ترجمان بابر علی نے ڈان کو پانچ اموات بتائیں، جبکہ حنیف عباسی نے کہا کہ ملتان کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے چار اموات رپورٹ کی ہیں اور وہ پانچ کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ بعد میں ڈان کی ویب سائٹ پر اسی خبر کی سرخی میں کم از کم پانچ ہلاکتیں درج ہوئیں، اس لیے حتمی تعداد کے لیے سرکاری اعلان کا انتظار مناسب ہے۔

وزیرِ ریلوے نے تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے جانی نقصان پر افسوس ظاہر کیا، زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولتیں دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ریلوے کی انشورنس پالیسی کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے ڈان کو بتایا کہ ٹرین کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور سگنل کلیئر تھا۔ ان کے مطابق شیر شاہ اسٹیشن کے علاقے سے گزرتے ہوئے اچانک انہیں ایک جھٹکا محسوس ہوا۔ انہوں نے بریک لگا کر ٹرین روکی اور انجن سے اتر کر دیکھا تو مسافر بوگیاں پٹڑی سے اتری ہوئی تھیں۔ ڈرائیور کا دعویٰ ہے کہ ٹرین کی حالت درست تھی۔ یہ ایک فریق کا بیان ہے؛ حادثے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

ملتان کے کمشنر عامر کریم خان نے متاثرہ مسافروں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور حکام کو ہدایت کی کہ مسافروں کے لیے عارضی رہائش، ٹرانسپورٹ اور ناشتے کا انتظام کیا جائے اور فوری امداد و طبی سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔

ریلوے کے بیان کے مطابق لودھراں اور جہانیاں کے راستے ٹرین آپریشن مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔ بڑے اسٹیشنوں پر چوبیس گھنٹے معلومات اور مدد کے ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جبکہ متبادل سفری انتظامات اور ضرورت پر ٹکٹوں کی رقم واپس کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رحمان بابا ایکسپریس کے متبادل کے طور پر ایک ٹرین شیر شاہ اسٹیشن سے 500 سے زائد مسافروں کو لے کر روانہ ہو چکی ہے۔

ڈان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جس سے ریلوے کی دیکھ بھال میں ممکنہ غفلت پر تشویش بڑھی ہے۔ یکم اکتوبر کو شالیمار ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس پٹڑی سے اترنے کے باوجود بڑے حادثوں سے بچ گئیں، جبکہ جعفر ایکسپریس کو گوجر خان کے قریب معمولی حادثہ پیش آیا۔

تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حادثے کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر اس خبر میں اضافہ کیا جائے گا۔

ذرائع: ڈان (Dawn)

ماخذ: ڈان (Dawn)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔