خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو صوبے کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ ڈان کے مطابق وزیرِ اعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی غیر رسمی طور پر بنائی گئی ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی صوبے میں گورننس اور سلامتی کی صورتِ حال کی روزانہ نگرانی کر کے وزیرِ اعظم کو رپورٹ دے گی اور خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی ڈھانچے سے رابطہ رکھے گی۔ کمیٹی میں اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، امیر مقام، طارق فضل چوہدری، رانا ثناء اللہ، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور استحکامِ پاکستان پارٹی کا ایک ایک رکن شامل بتایا گیا ہے۔ اس سے پہلے گورنر فیصل کریم کنڈی کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری بورڈ بھی بنایا جا چکا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس منگل کی شام چھ بجے طلب کیے ہیں، جو بظاہر ایمرجنسی اور گورنر راج کی آئینی توثیق کے لیے ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت چھ ماہ سے زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کا انحصار صوبے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر ہوگا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے کے عوام نے گورنر راج کا خیر مقدم کیا کیونکہ اس سے انہیں امید ملی، جبکہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے لیے بمشکل ایک درجن افراد جمع ہوئے۔ امیر مقام نے کہا کہ امن کی بحالی کے لیے گورنر راج ضروری تھا اور وفاق نے صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا تھا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ بگٹی نے بھی سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر فیصلے کا دفاع کیا، جبکہ بلوچستان کی اپوزیشن نے ایمرجنسی مسترد کر دی۔
دوسری جانب اپوزیشن اور وکلا نے اس اقدام پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ جے یو آئی (ف) نے سینیٹ میں قرارداد جمع کرائی ہے جس میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے آئینی ہونے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نیر بخاری نے آئینی تقاضوں کی پاسداری پر زور دیا اور کہا کہ پارلیمان مناسب لائحہ عمل طے کرے گی۔ پاکستان بار کونسل کے اراکین نے آرٹیکل 232 اور 234 کے استعمال کی آئینی بنیاد پر سوالات اٹھائے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے گورنر راج کو عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ اچکزئی نے اسے آئین اور جمہوریت پر حملہ کہا، اور پی ٹی آئی کے گوہر کے مطابق وہ پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔
ڈان کے مطابق صوبے بھر میں پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن حراست میں لیے گئے اور کئی رہنما روپوش ہو چکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ سمیت کئی رہنما گرفتار ہوئے؛ پولیس ذرائع کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ پشاور میں پی ٹی آئی کی احتجاجی کال پر محدود ردِعمل رپورٹ ہوا اور تعلیمی ادارے کھلے رہے۔
ذرائع: ڈان: ڈار کی سربراہی میں کمیٹی، ڈان: حکومت کا مؤقف، ڈان: جے یو آئی (ف) کی قرارداد، ڈان: وکلا کا ردِعمل، ڈان: پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں، ڈان: اسٹاک مارکیٹ