بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کا “سنجیدہ” جواب کا اعلان، ہوائی اڈے کی بندش 17 اکتوبر تک بڑھ گئی

ایک ہفتے سے کم میں 18 اموات کے بعد سعودی وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہوگا؛ حوثیوں نے امریکا کو خبردار کیا، ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی فائل تصویر (علامتی؛ حالیہ حملے کی تصویر نہیں)
علامتی تصویر: liton islam، CC BY 3.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے بعد “سنجیدہ” جوابی ردِعمل کا اعلان کیا ہے، جن میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا اور ایک ہفتے سے کم عرصے میں 18 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ڈان کی اے ایف پی سے ماخوذ رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بدترین سلامتی بحران کا سامنا ہے۔

ریاض میں توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ توانائی کی سلامتی کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق حالیہ ہفتوں کے واقعات سنگین ہیں اور جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے، کیونکہ ان حالات نے سعودی بنیادی ڈھانچے، اداروں، عوام اور استقامت کو آزمایا ہے۔ پیر کو تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملوں میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی سرزمین پر مہلک ترین حملہ ہے۔ بدھ اور جمعرات کے حملوں میں چار افراد مارے گئے تھے جبکہ اتوار کو ایک اور شخص جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔ اتوار کی شام دمام کے ہوائی اڈے پر بھی حملہ ہوا جس میں ایک شخص جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق پیر کو جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب آنے والا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا۔

اتحاد نے ہفتے کے حملے کو “مکمل جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے فیصلہ کن جواب کا اعلان کیا۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بار بار ہونے والے حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی اور دونوں فریقوں سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کی۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے حملے کو ناقابلِ قبول کہا اور بتایا کہ وہ سعودی ولی عہد سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شمولیت پر بات کریں گے۔

حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے اے ایف پی سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اگر امریکا یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوا تو “تیز اور تکلیف دہ” جواب دیا جائے گا، اور سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے ملازمین کو ان مقامات سے دور رہنے کا کہا۔ یمن کے شہر تعز میں بھی حوثیوں نے محاصرہ تنگ کر دیا ہے جہاں فریقین کے فوجی ذرائع کے مطابق 24 گھنٹوں میں 60 سے زائد افراد مارے گئے، جبکہ یمنی وزارتِ صحت نے ادویات اور ایندھن ختم ہونے کے خطرے کے باعث انسانی تباہی سے خبردار کیا۔

ہوابازی پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔ کنگ خالد ایئرپورٹ کی بندش 17 اکتوبر کو 2100 جی ایم ٹی تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ سیریم کے مطابق سعودی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی منسوخی 46.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اتحاد ایئرویز نے ریاض، دمام اور جدہ کی پروازیں منسوخ کیں، گلف ایئر نے ریاض کی سروس معطل کی، اور ڈیلٹا نے 23 اکتوبر کو شروع ہونے والی اٹلانٹا-ریاض سروس مارچ 2027 تک مؤخر کر دی۔ یہ تفصیلات ڈان کی رپورٹ سے لی گئی ہیں اور صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔

ذرائع: ڈان/اے ایف پی: Riyadh vows serious response amid Houthi escalation

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔