پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار کے دوران شدید مندی رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,964.87 پوائنٹس یا 1.18 فیصد کمی کے ساتھ 165,124.41 پر بند ہوا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کاروبار کے دوران انڈیکس ایک موقع پر تقریباً 1,920 پوائنٹس گر گیا تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس کمی سے بینچ مارک انڈیکس 166,000 کی سطح سے نیچے آ گیا۔
سرمایہ کاروں کے جذبات پہلے ہی کمزور تھے، اور اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت والے صوبے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے سرمایہ کاروں کو مزید محتاط کر دیا۔ ڈان کے مطابق مارکیٹ مشرقِ وسطٰ کی کشیدگی، تیل و پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں، مہنگائی کے دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے دباؤ میں تھا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے باوجود، جس سے دو جاری پروگراموں کے تحت 1.2 ارب ڈالر جاری ہونے کا راستہ ہموار ہوا ہے اور جس کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہے، مارکیٹ میں مثبت رجحان نہ لا سکا۔ بین الاقوامی منڈی میں سعودی عرب پر حملوں نے سپلائی میں مزید اضافے کی امیدوں پر سایہ ڈالا، اور برینٹ خام تیل کے فرنٹ فیچرز 2.07 ڈالر یا 2 فیصد اضافے سے 106.79 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جو 29 ستمبر کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 93.54 ڈالر فی بیرل پر تھا۔
ٹاپ لائن کے مطابق یونائٹڈ بینک، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، حبیب بینک، میزان بینک اور لكی سیمنٹ سب سے زیادہ دباؤ میں رہے اور انہوں نے مل کر انڈیکس سے تقریباً 645 پوائنٹس کم کیے۔ کاروباری حجم 17.3 فیصد بڑھ کر 36 کروڑ 29 لاکھ شیئرز رہا اور ٹرن اوور کی قیمت 6.02 فیصد اضافے سے 14.5 ارب روپے تک پہنچی۔ ٹریٹ کارپوریشن تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ شیئرز کے ساتھ حجم کی فہرست میں سرفہرست رہی۔
ارشد حبیب لمٹڈ کے نائب سربراہ ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ مارکیٹ کمزوری اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن میں کھلا۔ نچلی سطح پر قیمت خریداری سے انڈیکس میں مختصر بحالی ہوئی، لیکن وہ بھی دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق مارکیٹ آئندہ بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتا ہے اور مزید کمی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، جبکہ نچلی سطح پر خریداری وقتاً فوقتاً سہارا دے سکتی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مضبوط بنیادوں والے شیئرز منتخب کرنے اور جارحانہ پوزیشن سے گریز کا مشورہ دیا۔
سرکاری مؤقف میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بلند تیل قیمتوں کے باوجود معیشت میں موجودہ مالی سال میں چار فیصد سے زائد شرحِ نمو متوقع ہے، اور نجکاری کے عمل سے ایک ارب ڈالر سے زائد حاصل کرنے کا ہدف ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ تمام معلومات مارکیٹ کے تجزیوں اور سرکاری بیانات پر مبنی ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے ماہر مشاورت لینا مناسب رہے گا۔
ذرائع: ڈان: Governor rule in KP rattles stock market، ڈان: Petrol price down by Rs2.93 per litre، ڈان: Stocks fall as geopolitical uncertainty offsets IMF agreement، ڈان: Pakistan looking to raise more than $1bn under privatisation