اسلام آباد: سلطنتِ عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی منگل کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں وہ پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد آمد پر اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری اور وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (مشرقِ وسطیٰ) نے ان کا استقبال کیا۔ دفترِ خارجہ نے ان کی آمد کی تصاویر بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیں۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق دورے کے دوران عمانی وزیرِ خارجہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ کمیشن کا اجلاس دونوں ملکوں کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کا اہم پلیٹ فارم ہوگا، اور یہ دورہ دونوں ملکوں کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔
سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار نے ہفتے دس اکتوبر کو اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس میں ایجنڈے، دوطرفہ معاہدوں اور کمیشن کے انتظامات پر غور کیا گیا، جس کی مشترکہ صدارت دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کریں گے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، اقتصادی امور، داخلہ اور بحری امور کے سیکرٹریز اور عمان میں پاکستان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق کمیشن کا ایجنڈا وسیع ہے، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، مالیات، تیل و گیس، محنت، قونصلر امور، سلامتی، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، شہری ہوابازی، تعلیم، میڈیا اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل تیاری اور مؤثر پیروی کی ہدایت کی تاکہ اجلاس سے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
یہ اجلاس خاصے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ اے پی پی کے مطابق نومبر 2025 میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں آٹھویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس جلد از جلد باہمی طور پر موزوں تاریخ پر دوبارہ طے کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرا رواں برس جولائی میں منیلا میں آسیان کے معاہدۂ دوستی و تعاون کی پچاسویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر بھی ملے تھے اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا تھا اور مسلسل مشاورت پر زور دیا تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے خطے میں توانائی کی ترسیل اور معیشتوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں بھی بلند سطح پر ہیں۔ تاہم دفترِ خارجہ کے بیانات میں اس دورے کو بنیادی طور پر دوطرفہ تعاون کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، اور اجلاس کے نتائج کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔
ذرائع: ڈان (Dawn)، اے پی پی (APP)، ریڈیو پاکستان، اے پی پی (APP)، عمانی وزارتِ خارجہ