کراچی: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو مندی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 165,000 پوائنٹس کی اہم سطح سے نیچے بند ہوا۔ ڈان کے مطابق سرمایہ کاروں نے غیر واضح صورتحال کے پیشِ نظر حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی، جس سے گزشتہ روز کی گراوٹ میں مزید اضافہ ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس 347.97 پوائنٹس یا 0.21 فیصد کمی کے بعد 164,776.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔ پورے سیشن کے دوران انڈیکس محدود دائرے میں رہا اور انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص پر فروخت کا دباؤ نمایاں رہا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق مارکیٹ کا آغاز مثبت ہوا اور انڈیکس دورانِ کاروبار 166,071 پوائنٹس تک گیا، تاہم اونچی سطح پر منافع کے حصول کے باعث بحالی برقرار نہ رہ سکی۔
جن کمپنیوں کے حصص نے انڈیکس کو سب سے زیادہ نیچے کھینچا ان میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، لکی سیمنٹ اور ماری انرجیز شامل تھیں، جن کی مجموعی کمی سے انڈیکس 343 پوائنٹس گرا۔ کاروباری حجم میں 5.72 فیصد اضافہ ہوا اور 38 کروڑ 40 لاکھ حصص کا لین دین ہوا، تاہم کاروباری مالیت 9.67 فیصد کمی کے ساتھ 13 ارب 10 کروڑ روپے رہی۔
سرمایہ کاروں کی تشویش ایسے وقت میں برقرار رہی جب وزیرِ خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باوجود رواں مالی سال میں معاشی شرحِ نمو چار فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ کی قریبی مدت کی سمت کا انحصار اہم معاشی اشاریوں، ادارہ جاتی سرگرمی اور سرمایہ کاروں کی پوزیشننگ پر رہے گا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گیارہ اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کی پارلیمانی منظوری کے لیے منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلائے گئے۔ پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف یکساں پالیسی کے لیے ضروری تھا۔ ڈان کی رپورٹ میں سرمایہ کاروں کی بے چینی کو اسی سیاسی صورتحال سے جوڑا گیا ہے۔
شعبہ جاتی سطح پر آٹوموبائل سیکٹر کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے۔ ستمبر میں کاروں، ہلکی کمرشل گاڑیوں، وینز اور جیپوں کی فروخت ماہانہ بنیاد پر تین فیصد اور سالانہ بنیاد پر بارہ فیصد کمی کے ساتھ 15,100 یونٹس رہی۔ تاہم رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی فروخت انیس فیصد اضافے کے ساتھ 50,500 یونٹس تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی جولائی سے ستمبر تک کے عرصے پر مشتمل ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملکی سیاسی غیر یقینی کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ بنیادی طور پر مضبوط کمپنیوں میں منتخب خریداری مزید گراوٹ کو محدود کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک مارکیٹ کا رجحان مستحکم نہیں ہوتا، سرمایہ کاروں کو جارحانہ پوزیشنز سے گریز کرنے اور مضبوط بنیادوں والے حصص کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ذرائع: ڈان (Dawn)