ریاض / صنعاء: سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے منگل کو یمن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایندھن اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں، ریفائنریوں اور تیل تنصیبات کے خلاف سخت اور تکلیف دہ جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ کارروائی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تیزی سے پھیلتے تصادم میں ایک نئی شدت کی عکاس ہے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق اہداف میں صنعاء کا الصباحہ مرکزی اسٹیشن، زیرِ زمین ایندھن ذخائر و اسٹوریج ٹینک، اور حدیدہ، صنعاء اور ذمار میں توانائی کی تنصیبات شامل تھیں۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ مقامات حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو رسد فراہم کر رہے تھے، جو سعودی عرب، اس کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق حملے سے پہلے اتحاد نے صنعاء کے مغربی مضافات میں یمن پیٹرولیم کمپنی کی ایک تنصیب کے اطراف سے شہریوں کو نکل جانے کی ہدایت کی تھی، جو جنگ دوبارہ بھڑکنے کے بعد دارالحکومت کے لیے پہلا انخلا کا حکم تھا۔ صنعاء میں اے ایف پی کے نمائندے نے دھماکے کی آواز سنی، جبکہ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ اس مقام کی کوئی فوجی اہمیت نہیں تھی۔ انتباہ کے بعد بہت سے شہری قلت کے خدشے سے پیٹرول پمپوں پر قطاروں میں لگ گئے، تاہم یمن پیٹرولیم کمپنی نے کہا کہ ذخائر محفوظ مقامات پر وافر مقدار میں موجود ہیں۔
حوثیوں نے ممکنہ اہداف میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، دارالحکومت کی ایک ریفائنری اور مشرقی سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات کا نام لیا ہے۔ چند گھنٹوں بعد سعودی حکام نے مشرقی صوبے اور ریاض میں ممکنہ فضائی خطرے کی وارننگ جاری کی۔ عینی شاہدین کے مطابق ظہران میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر کے قریب زوردار دھماکے سنے گئے، تاہم تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اتحاد کے مطابق روکے گئے ایک پروجیکٹائل کا ملبہ ظہران کے رہائشی علاقے میں گرا، جبکہ ریاض کے شمال میں تین ڈرون بھی روکے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے گفتگو کے بعد کہا کہ حوثی بہت برا رویہ اختیار کر رہے ہیں، اور ان پر تین نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام لگایا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی ولی عہد کو ساتھ کھڑے ہونے کا یقین دلایا۔ حوثی رہنما محمد البخیتی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ جنگ میں شامل ہوا تو خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
جنگ کے اقتصادی اور انسانی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق رواں سال سعودی معیشت میں 3.3 فیصد سکڑاؤ کا امکان ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں ہیضے کے مشتبہ کیسز تین ہفتوں میں تین گنا ہو گئے ہیں، جس سے جنگ کے زخمیوں کا علاج کرنے والے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سعودی اتحاد 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔