اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بدھ چودہ اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں دو روپے اکہتر پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل صرف تین پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ نئی قیمتیں بدھ کے روز کے لیے لاگو ہوں گی، کیونکہ حکومت ان دنوں ایندھن کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر طے کر رہی ہے۔
نئے نرخوں کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 392 روپے 66 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 82 پیسے ہو گئی ہے۔ اس حساب سے منگل کے روز پیٹرول 395 روپے 37 پیسے اور ڈیزل 396 روپے 85 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ حکومت بدستور پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کا پس منظر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ہے۔ ڈان کے مطابق اٹھائیس فروری کو امریکہ اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ڈیزل تقریباً 281 روپے فی لیٹر تھا جو تین اپریل کو 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی دن پیٹرول بھی 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر تھا، جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کی قیمت 266 روپے تھی۔
سترہ جولائی کو وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ خلیج میں دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے قیمتیں روزانہ مقرر کی جائیں گی۔ اس سے قبل مارچ سے ہفتہ وار نظرِثانی کی جا رہی تھی۔ کابینہ اور وزیراعظم نے یہ ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی ہے، جو بین الاقوامی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ نرخ طے کرتی ہے۔
حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کر رکھے ہیں، جن کے تحت بازار رات نو بجے بند کرنے کی پابندی ہے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں تین ماہ کے لیے پچاس فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تیرہ ستمبر کو موٹر سائیکل، رکشہ اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کے لیے ایک ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔
پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت کا اثر بھی عام صارفین تک پہنچتا ہے۔
ڈان کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں کیونکہ ان کی ماہانہ فروخت سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف دس ہزار ٹن کے قریب ہے۔ چونکہ نرخ روزانہ بدل رہے ہیں، اس لیے جمعرات کی قیمتوں کا اعلان الگ سے کیا جائے گا۔
ذرائع: ڈان (Dawn)