بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

باڑہ میں گورنر راج کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج پرتشدد، سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے کی اطلاعات، 50 افراد گرفتار

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں گورنر راج کے خلاف مظاہرے کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپیں ہوئیں؛ پولیس نے 50 گرفتاریوں کا دعویٰ کیا۔
ضلع خیبر میں جمرود روڈ پر باب خیبر کی فائل تصویر (علامتی؛ باڑہ احتجاج کی تصویر نہیں)
علامتی تصویر: Shaw Afridi، CC BY-SA 3.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں منگل کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر گیا۔ ڈان کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور بعض سرکاری عمارتوں کو آگ لگائے جانے کی اطلاعات ملیں۔ پولیس نے پچاس افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ احتجاج اس وفاقی فیصلے کے خلاف تھا جس کے تحت صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا اور خیبر سمیت بارہ اضلاع کے لیے ایمرجنسی کے تحت خصوصی انتظامات کیے گئے۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی بطور وزیراعلیٰ غیر فعال ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی اس اقدام کو عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دے کر اسے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دوپہر کے وقت بڑی تعداد میں پارٹی کارکن باڑہ بازار کے خیبر چوک پر جمع ہوئے، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے ابتدا میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر بعد مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی مزید حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور ہجوم میں اضافہ ہو گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور کچھ اہلکاروں نے قریبی دکانوں اور کاروباری عمارتوں میں پناہ لی۔ اطلاعات کے مطابق بعض اہلکاروں کو دکانوں سے باہر گھسیٹا گیا، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور ہوائی فائرنگ کی۔ قریب واقع نادرا دفتر اور ریسکیو 1122 کی عمارت کے ایک حصے کو نذرِ آتش کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ڈان نے عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر کم از کم پانچ مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ تاہم پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ایک درجن سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا، جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی حتمی تعداد اور ان کی حالت کے بارے میں سرکاری سطح پر تفصیلی معلومات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

کیپیٹل سٹی پولیس پشاور کے بیان میں کہا گیا کہ باڑہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے پچاس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبے کی نئی مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بیالیس گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں پچیس غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری ہیں۔ انہوں نے مظاہرین پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔

گرفتاریوں کی تعداد کے بارے میں دونوں سرکاری بیانات میں فرق پایا جاتا ہے۔ ڈان کے مطابق گرفتاریوں کی تعداد، نقصان کی حد اور گرفتار افراد کی شہریت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس مخصوص واقعے پر پی ٹی آئی قیادت کا ردِعمل ڈان کی رپورٹ میں شامل نہیں، البتہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں تقریباً دو ہزار کارکن حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، ڈان (Dawn)، 24 نیوز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔