بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

آئی ایم ایف کا انتباہ: خلیجی معیشتیں درمیانی مدت میں جنگ سے پہلے کی شرحِ نمو پر واپس نہیں آئیں گی

آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازعور کے مطابق جنگ کے دیرپا اثرات کے باعث خلیجی معیشتیں پرانی رفتار پر جلد نہیں لوٹیں گی؛ سعودی معیشت کے 3.3 فیصد سکڑنے کا تخمینہ۔
واشنگٹن میں آئی ایم ایف ہیڈکوارٹرز کی عمارت کی فائل تصویر
تصویر: International Monetary Fund / Wikimedia Commons (Public domain)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازعور نے جمعرات کو کہا ہے کہ توانائی کے وسائل سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں بحال تو ہوں گی، مگر درمیانی مدت میں جنگ سے پہلے کی شرحِ نمو کے راستے پر واپس نہیں آ سکیں گی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں جہاد ازعور نے وضاحت کی کہ اس جھٹکے کے مختلف شعبوں پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہوں گے، کچھ بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو گا اور معیشتوں کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے اضافی اخراجات کرنا پڑیں گے۔ ان کے مطابق یہی عوامل خطے کو پرانی رفتار پر فوری طور پر لوٹنے نہیں دیں گے۔

آئی ایم ایف نے منگل کو جاری کردہ تخمینوں میں کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کا خطہ، جو ایران جنگ سے براہِ راست متاثر ہے، 2026 میں 0.3 فیصد سکڑ جائے گا۔ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سعودی عرب شامل ہے جس کی معیشت کے 3.3 فیصد سکڑنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ اس خلیجی مملکت کے لیے ایک غیر معمولی کساد بازاری ہو گی، جسے طویل عرصے سے توانائی کی مضبوط برآمدات سہارا دیتی رہی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق آئی ایم ایف خلیجی معیشتوں میں وسیع پیمانے پر سکڑاؤ کی توقع کر رہا ہے، کیونکہ ایران سے شروع ہونے والی کئی ماہ کی جنگ اب سعودی عرب اور یمن تک پھیل چکی ہے اور سمندری راستوں سے توانائی کی ترسیل بدستور متاثر ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کے اثرات دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سعودی قیادت والے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ مہلک میزائل حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ روئٹرز کے مطابق ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی اور یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا گیا۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس ہفتے بنکاک میں حکام اور ماہرین عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر غور کر رہے ہیں، جن میں توانائی کی بلند قیمتیں اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کے پائیدار ہونے سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ ڈان کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے ترقی پذیر ممالک کو بھی ایران جنگ کے جھٹکے کے باوجود اخراجات میں کمی کا مشورہ دیا ہے۔

پاکستان سمیت خطے کی کئی معیشتوں کے لیے خلیجی ممالک کی صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ توانائی کی درآمدات اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کی ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ انہی ممالک سے وابستہ ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے اس تازہ بیان میں پاکستان کا الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔

ذرائع: ڈان / اے ایف پی، ڈان / روئٹرز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔