بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پاکستان سمیت 18 ممالک کی بیت المقدس میں کولمبیا کے سفارت خانے کے افتتاح کی مذمت، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت بدلنے کا کوئی بھی اقدام کالعدم ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں قبۃ الصخرہ (فائل تصویر)
تصویر: Godot13 / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

اسلام آباد: پاکستان سمیت اٹھارہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں مقبوضہ بیت المقدس میں کولمبیا کے سفارت خانے کے افتتاح کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے واضح طور پر مسترد کیا ہے۔ بیان دفترِ خارجہ پاکستان نے جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

کولمبیا نے بدھ کے روز بیت المقدس میں باضابطہ طور پر اپنا سفارت خانہ کھولا تھا اور وہ امریکہ سمیت اُن چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اس متنازع شہر میں اسرائیلی خودمختاری کی علامتی تائید کا یہ قدم اٹھایا۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں رکھتے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت اسرائیلی-فلسطینی تنازعے کے حتمی تصفیے میں طے ہونی چاہیے۔

مشترکہ بیان پر پاکستان کے علاوہ الجزائر، جبوتی، مصر، انڈونیشیا، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، شام، سوڈان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت بدلنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مقصد سے کیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ کالعدم ہے۔ بیان کے مطابق یہ مؤقف سلامتی کونسل کی 1980 کی قراردادوں 476 اور 478 سمیت جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں سے مطابقت رکھتا ہے، جو شہر کی حیثیت بدلنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہیں اور ریاستوں سے وہاں سے سفارتی مشن ہٹانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

بیان میں کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو متاثر کرتے ہیں، جن میں مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا حق بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں بھی پاکستان نے تیرہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صومالی لینڈ کی جانب سے بیت المقدس میں نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی مذمت کی تھی اور اسے شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا تھا اور شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد سے صرف چند چھوٹے ممالک، جن میں فجی، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، پاپوا نیو گینی، پیراگوئے اور ناورو شامل ہیں، اسی راہ پر چلے۔ کوسووو اور صومالی لینڈ، جو اقوامِ متحدہ کے رکن نہیں، بھی وہاں اپنی سمجھ کے مطابق سفارت خانے کھول چکے ہیں۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، اے ایف پی بذریعہ ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔