اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپے 63 پیسے کمی کر دی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ 16 اکتوبر کے لیے ہوگا۔
نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 390 روپے 23 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ خلیج میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث ایندھن کی قیمتیں اب روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی۔ کابینہ اور وزیراعظم کے فیصلے کے تحت یہ ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی گئی۔ اس سے قبل مارچ کے اوائل سے قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر رد و بدل کیا جا رہا تھا۔
ڈان کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی اور 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح پیٹرول مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے سے بڑھ کر 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچا تھا۔ موجودہ قیمتیں ان بلند ترین سطحوں سے کم ہیں مگر جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے اب بھی کہیں زیادہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ نافذ کر رکھے ہیں، جن کے تحت بازاروں کو رات 9 بجے تک بند کرنے کی پابندی ہے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں تین ماہ کے لیے پچاس فیصد کمی کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں، رکشاؤں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔
پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشاؤں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں رد و بدل کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، لہذا اس کی قیمت بڑھنے سے اشیا کی ترسیل کے اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پیٹرولیم شعبے میں آمدن کے بڑے ذرائع ہیں اور ان کی ماہانہ فروخت سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف دس ہزار ٹن کے قریب ہے۔ اسی لیے ان دو مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی قومی خزانے اور صارفین دونوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
ذرائع: ڈان (Dawn)