بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پارٹی کمیٹیوں نے اجلاس میں مارچ کی تیاریوں اور رابطہ کاری پر سوالات اٹھائے؛ تفصیلات ذرائع کے حوالے سے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک سیاسی جلسے کی فائل تصویر (حالیہ مارچ کی تصویر نہیں)
علامتی تصویر: King Eliot، CC BY-SA 4.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

پاکستان تحریکِ انصاف کی کور اور سیاسی کمیٹیوں نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اتوار 18 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں تیاریوں، رابطہ کاری اور حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے گئے۔ اجلاس کی تفصیلات ذرائع کے حوالے سے ہیں، اس لیے انہیں پارٹی کا باضابطہ مؤقف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ کا اعلان پہلے 27 ستمبر کے لیے ہوا تھا، جسے 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا۔ اے آر وائی نیوز کی دو اکتوبر کی خبر کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے مذاکرات ہوئے، جن میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت رہنما شریک تھے۔ اس رپورٹ میں مذاکرات کے کسی نتیجے کا ذکر نہیں تھا۔

ٹریبیون کے مطابق 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی اور اسی روز صوبائی حکومت کو ہٹا دیا گیا۔ پارٹی کمیٹیوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کا جائزہ لینے اور آئندہ حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے اجلاس کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیشتر شرکاء نے کہا کہ تیاریاں ناکافی تھیں، رابطہ کمزور رہا اور رہنماؤں و صوبائی اسمبلی کے ارکان سے مشاورت نہیں ہوئی۔ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ چارسدہ اور مردان میں شرکت خاص طور پر کم رہی اور رات کے قیام کے لیے خیموں کا انتظام نہیں تھا۔ بعض شرکاء کے مطابق یہ منظم لانگ مارچ کے بجائے سڑکوں پر چلنے والی تحریک بن گئی جس میں واضح راستہ، انتظامات اور حکمتِ عملی نہیں تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی شرکاء نے خامیوں کی ذمہ داری معطل وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈالی۔ سلمان اکرم راجہ نے ان کا دفاع کرتے ہوئے انہیں بانی پی ٹی آئی کے نظریے سے وابستہ بہادر نوجوان رہنما قرار دیا۔ ان کے مطابق مارچ کی تنظیم کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے، مگر کور کمیٹی کی بحث کو سیاق سے ہٹا کر آفریدی کے خلاف سازشی بیانیہ نہیں بنانا چاہیے۔

اجلاس میں عمران خان تک رسائی کی ذمہ داری بیرسٹر محمد علی سیف کو دینے پر بھی بات ہوئی، اور بعض افراد نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس موجود ذمہ داریاں دوسرے رہنماؤں کو دینے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں ان نکات پر کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ٹریبیون نے کمیٹی کے ارکان یا دائرہ کار کی تفصیل بھی نہیں دی، جبکہ دیگر رپورٹس میں اسے کور کمیٹی کی سطح کا جائزہ کہا گیا ہے۔

آئندہ دنوں میں اس بات پر نظر رہے گی کہ کمیٹی کب اور کس شکل میں اپنی سفارشات پیش کرتی ہے اور پارٹی ان پر کیا فیصلے کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ قارئین تک متوازن معلومات پہنچتی رہیں۔

ذرائع: Express Tribune، ARY News

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔