امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر البوکرکی میں ایک جج نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ ریاست کو 25 ارب ڈالر ادا کرے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ بدھ کے روز سنایا گیا، جس سے پہلے ایک جیوری اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ میٹا نے صارفین کو گمراہ کیا۔ یہ مقدمہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے جڑے الزامات کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنی کے خلاف امریکی تاریخ میں کسی ایک ریاست کی جانب سے حاصل کیے گئے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے، بلکہ ممکنہ طور پر سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان صارفین کے حق میں ہے جن کی ذاتی معلومات کے بارے میں انہیں درست طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جج فرانسس میتھیو نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ فیس بک کی غلط کاری کمپنی کے بنیادی کاروباری طریقوں کی جڑ تک جاتی ہے۔ جج نے یہ بھی قرار دیا کہ ریاستی قانون کے تحت جرمانہ 219 ارب ڈالر سے زیادہ بنتا تھا، تاہم انہوں نے یہ رقم کم کر کے 25 ارب ڈالر مقرر کی۔
ریاست نیو میکسیکو نے یہ مقدمہ 2021 میں اس وقت دائر کیا تھا جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے تقریباً آٹھ کروڑ ستر لاکھ فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کر لیا تھا۔ ریاست کا الزام تھا کہ میٹا نے نیو میکسیکو کے صارفین سے یہ بات چھپائی کہ ان کے ڈیٹا تک کن لوگوں کو رسائی حاصل ہے، اور نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات سے نمٹنے کے بارے میں بھی غلط بیانی کی۔
مقدمے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ میٹا کو معلوم تھا کہ تھرڈ پارٹیز کو صارفین کے ڈیٹا تک وسیع رسائی حاصل ہے، اور کمپنی نفرت انگیز یا نقصان دہ مواد کو اس وقت برداشت کرتی رہی جب یہ اس کے مالی مفاد میں تھا۔ ریاست کے مطابق کمپنی نے اپنی دیگر اندرونی پالیسیوں کے بارے میں بھی صارفین کو گمراہ کیا۔ یہ الزامات ریاست کی جانب سے عائد کیے گئے تھے جنہیں جیوری نے درست تسلیم کیا۔
کیمبرج اینالیٹیکا اب ختم ہو چکی ہے۔ یہ برطانوی کنسلٹنگ کمپنی 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے کام کر رہی تھی۔ کمپنی نے لاکھوں فیس بک اکاؤنٹس کا ڈیٹا صارفین کی رضامندی کے بغیر ووٹرز کی پروفائلنگ اور ٹارگٹنگ کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہ ڈیٹا ایک محقق کے ذریعے حاصل ہوا جسے فیس بک نے اپنی پلیٹ فارم پر ایپ چلانے کی اجازت دی تھی۔
روئٹرز کے مطابق چھ دیگر امریکی ریاستیں کیمبرج اینالیٹیکا سے متعلق اپنے مقدمات میں میٹا کے ساتھ 45 کروڑ 92 لاکھ ڈالر میں تصفیہ کر چکی ہیں۔ یہ تصفیے اس 17 ارب 10 کروڑ ڈالر کے کثیر ریاستی معاہدے کا حصہ تھے جو میٹا نے اگست میں ان ریاستی دعوؤں کو نمٹانے کے لیے کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز نوعمر صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ذرائع: Reuters via Dawn، The Next Web