منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ڈیرہ اسماعیل خان: انڈس ہائی وے پر مسلح افراد شوگر مل کے 17 ملازمین کو اغوا کر کے لے گئے، بازیابی کیلئے آپریشن جاری

پولیس کے مطابق 15 سے 20 مسلح افراد نے ناکہ لگا کر نائٹ شفٹ سے واپس آنے والے ملازمین کی بس روکی، مغویوں کے اہل خانہ نے انڈس ہائی وے بلاک کر دیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان شہر کا قریشی موڑ (فائل فوٹو)
فائل فوٹو — تصویر: Amirk94391 / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلح افراد نے انڈس ہائی وے پر ناکہ لگا کر ایک شوگر مل کے 17 ملازمین کو اغوا کر لیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ واقعہ بدھ کی صبح تقریباً ایک بجے پروا کے علاقے میں پیش آیا۔ مغویوں میں زیادہ تر افراد مبینہ طور پر مل کے سیکیورٹی اہلکار بتائے جاتے ہیں، تاہم ان کے نام باضابطہ طور پر جاری نہیں کیے گئے۔

پولیس کے مطابق پندرہ سے بیس مسلح افراد نے سڑک پر ناکہ لگایا اور نائٹ شفٹ ختم کر کے واپس جانے والے ملازمین کی بس کو روک لیا۔ ملزمان نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور پھر 17 ملازمین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اغوا کی یہ واردات بھتہ خوری کے مطالبے سے جڑے تنازعے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایکسپریس نیوز کے حوالے سے روزنامہ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے چشمہ شوگر ملز کی گاڑیوں کے مسافروں کو نشانہ بنایا۔ اس رپورٹ کے مطابق پانچ افراد ارسلان، ماجد، کاشف، شیراز اور حماد کو بعد میں چھوڑ دیا گیا، جنہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً چار گھنٹے پیدل چل کر واپس پہنچے۔ رپورٹ کے مطابق 17 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اغوا ہونے والوں کی کل تعداد کے بارے میں مختلف رپورٹس میں معمولی فرق ہے، اور سرکاری سطح پر حتمی تفصیل تاحال جاری نہیں کی گئی۔

پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کا محاصرہ کر کے مغویوں کی تلاش شروع کر دی۔ ڈان کے مطابق بازیابی آپریشن میں مدد کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان سے فوج کے دستے بھی روانہ کیے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے اور اس مقصد کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ تاہم اغوا کاروں کی شناخت اور مغویوں کے ممکنہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

واقعے کے خلاف مغویوں کے رشتہ داروں نے انڈس ہائی وے کو چودھواں موڑ کے مقام پر بلاک کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والوں کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ احتجاج کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے حکام سے بازیابی کی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ مقامی شہریوں نے بھی اغوا کی اس واردات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے گردونواح کے اضلاع گزشتہ کئی مہینوں سے امن و امان کی خراب صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انڈس ہائی وے خیبرپختونخوا کو پنجاب اور سندھ سے ملانے والی اہم شاہراہ ہے اور اس پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں سفر کرتی ہیں، اس لیے اس راستے پر اغوا کی واردات نے عام مسافروں اور صنعتی مزدوروں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ تازہ گرفتاریوں یا بازیابی کے حوالے سے کوئی نئی معلومات ملنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

ذرائع: Dawn، روزنامہ پاکستان (بحوالہ ایکسپریس نیوز)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔