بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

بل گیٹس کا انتباہ: آئندہ سال مصنوعی ذہانت سے جڑے سائبر حملے سب سے نمایاں خطرہ ہو سکتے ہیں

اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں گیٹس نے کہا کہ فوری خطرہ اے آئی کے قابو سے باہر ہونے کا نہیں بلکہ بدنیت افراد کے ہاتھوں اس کے غلط استعمال کا ہے؛ انہوں نے کمپنیوں کی خود نگرانی کو ناکافی قرار دیا۔
بل گیٹس کی 2024 کی فائل تصویر
تصویر: REPÚBLICA DE COLOMBIA / Wikimedia Commons / پبلک ڈومین

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اتوار کو خبردار کیا کہ بے ضابطہ مصنوعی ذہانت کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور آئندہ ایک سال میں اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملوں میں اضافے کی پیش گوئی کی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جو ایکسپریس ٹریبیون نے شائع کی، گیٹس نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیا۔

اصل خطرہ کیا ہے

گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے “قابو سے باہر ہو جانے” کا خطرہ ابھی برسوں دور ہے، اور فوری تشویش “بدنیت افراد” کی ہے جو ایسے نظام استعمال کرتے ہیں جن سے حفاظتی انتظامات ہٹا دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ سال سب سے نمایاں محاذ سائبر حملوں کا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترین ماڈلز، بدنیت افراد اور حفاظتی پابندیوں کی عدم موجودگی کے امتزاج سے خاص طور پر سائبر شعبے میں بہت سے “منفی سرپرائز” سامنے آ سکتے ہیں۔ گیٹس نے حیاتیاتی دہشت گردی اور سائبر حملوں کے لیے اے آئی کے استعمال کو روکنے کے لیے مزید پابندیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کمپنیوں کی خود نگرانی پر سوال

گیٹس نے اس تصور کو مسترد کیا، جس کی حمایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے ہیں، کہ اے آئی کمپنیوں کی خود نگرانی دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک ٹیکنالوجی کے بارے میں یہ سوچ کہ صرف کمپنیاں ہی معاشرے کے لیے واحد نگران ہوں، ناکافی ہے، اور واضح ہے کہ ابھی کافی کام نہیں ہو رہا۔

پہلے کے بیانات

رائٹرز کے مطابق گیٹس اگست میں ایک طویل پوسٹ میں خبردار کر چکے ہیں کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے باعث آنے والی بڑی تبدیلیوں، خاص طور پر روزگار پر اثرات، کے لیے خطرناک حد تک تیار نہیں۔ اے آر وائی نیوز کی 26 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق این بی سی کے پروگرام میں گیٹس نے کہا تھا کہ جدید اے آئی اور بدنیت افراد کا امتزاج ایک نیا اور سنگین خطرہ ہے اور حکومتوں کو ڈویلپرز کے لیے قواعد بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی رپورٹ کے مطابق اگست کے مضمون میں انہوں نے ملازمتوں کے خاتمے، فراڈ، غلط معلومات، آسان سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی کے خدشات کا ذکر کیا تھا۔

جے پوسٹ اینڈ نیوزویک کی رپورٹس کے مطابق گیٹس نے این بی سی کے اسی پروگرام میں کہا تھا کہ ایمرجنسی بند کرنے کے بٹن کے مقابلے میں حفاظتی انتظامات اور نگرانی زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں؛ ان کے بقول سوال یہ ہے کہ یہ اقدامات بڑے پیمانے کے سائبر یا حیاتیاتی حملوں سے پہلے کیے جائیں یا بعد میں۔ گیٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ اے آئی کا قابو سے باہر ہونا فی الحال فوری خطرہ نہیں۔ رائٹرز کے مطابق گیٹس ان تازہ ترین ٹیک شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اس نئی ٹیکنالوجی کے خطرات پر خبردار کیا ہے۔ اے بی سی نیوز فور کی ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اضافی حفاظتی پابندیوں کی عوامی طور پر مخالفت کر چکے ہیں، جبکہ کانگریس کے رہنماؤں نے ابھی کوئی بڑی وفاقی اے آئی قانون سازی آگے نہیں بڑھائی۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (Reuters)، اے آر وائی نیوز (26 ستمبر)، جے پوسٹ، اے بی سی نیوز فور

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔