اسلام آباد: عالمی بھوک انڈیکس (گلوبل ہنگر انڈیکس) 2026 میں پاکستان کو 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور 25.5 اسکور کے ساتھ ملک میں بھوک کی سطح کو سنگین قرار دیا گیا ہے۔ جیو نیوز اور عرب نیوز کے مطابق جنوبی ایشیا میں صرف افغانستان کا اسکور پاکستان سے زیادہ ہے، جو 28.6 اسکور کے ساتھ 108ویں نمبر پر ہے۔
انڈیکس کے مطابق پاکستان کی 16.1 فیصد آبادی غذائی کمی کا شکار ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 33.6 فیصد بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے کم ہے، جسے طبی اصطلاح میں اسٹنٹنگ کہا جاتا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق 9.8 فیصد بچے ویسٹنگ یعنی قد کے مقابلے میں کم وزن کا شکار پائے گئے۔ انڈیکس کا اسکور غذائی کمی، بچوں کی اسٹنٹنگ، ویسٹنگ اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں طویل مدتی بہتری کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ پاکستان کا اسکور 2000 میں 36.2 تھا جو اس وقت تشویشناک درجے میں شمار ہوتا تھا، اور اب کم ہو کر 25.5 پر آ گیا ہے۔ تاہم بلوم پاکستان کے مطابق 2018 کے بعد صورتحال پھر بگڑی ہے، غذائی کمی کی شرح 10.9 فیصد سے بڑھ کر 16.1 فیصد اور بچوں میں ویسٹنگ کی شرح 7.1 فیصد سے بڑھ کر 9.8 فیصد ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان ہی وہ ممالک ہیں جہاں 2018 کے بعد بھوک کے اسکور میں بگاڑ آیا ہے۔ خطے کا مجموعی اسکور 23.5 ہے جو سنگین درجے میں آتا ہے، جبکہ عالمی اسکور 18.1 ہے، اور پاکستان کا اسکور دونوں سے زیادہ ہے۔ ڈان نے اپنی رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کی کارکردگی کو سب سے کمزور قرار دیا، تاہم درجہ بندی میں افغانستان پاکستان سے نیچے ہے۔
ڈان کے حوالے سے اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق اس سال کی رپورٹ کا موضوع غذائی تحفظ کے بغیر کوئی سلامتی نہیں ہے، اور اسے جرمن ادارے ویلٹ ہنگر ہلفے، روہر یونیورسٹی بوخم کے انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل لا آف پیس اینڈ آرمڈ کنفلکٹ اور سوئس تنظیم ہیلویٹاس نے مل کر تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں معاشی عدم استحکام، غذائی اشیا کی بڑھتی مہنگائی، موسمیاتی آفات اور بین الاقوامی تنازعات کو اس صورتحال کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر بھی رپورٹ تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔ عالمی اسکور 2018 کے 17.6 سے بڑھ کر 2026 میں 18.1 ہو گیا ہے، 32 ممالک میں 2018 کے بعد بھوک کی صورتحال بدتر ہوئی ہے اور 57 ممالک 2030 تک بھوک کی کم سطح کا ہدف حاصل کرنے کی راہ پر نہیں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کے تخمینے کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران ایران سمیت جنوبی ایشیا میں اکیس کروڑ اسی لاکھ افراد غذائی کمی کا شکار تھے، جو دنیا بھر کی مجموعی تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
ذرائع: جیو نیوز، عرب نیوز، اے این آئی (ڈان کے حوالے سے)، بلوم پاکستان، یو اے نیوز (ڈان کے حوالے سے)