لاہور: پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو آئندہ ماہ سری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بھی قومی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے۔ جیو نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں یہ بات بتائی گئی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
کرکٹ ویب سائٹ کرکٹ ایڈکٹر نے مقامی میڈیا کے حوالے سے لکھا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے ہیسن کو عبوری ٹیسٹ ہیڈ کوچ کے طور پر برقرار رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب پروپاکستانی اور پاکستان آبزرور نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ حتمی فیصلہ ابھی سامنے آنا باقی ہے اور بورڈ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ریڈ بال ٹیم کے لیے الگ ہیڈ کوچ مقرر کیا جائے گا یا نہیں۔
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک ہیسن مئی 2025 سے پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے پہلے دو میچوں میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیسٹ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ہیسن کو عبوری طور پر ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری دی گئی۔ اسی موقع پر اسکواڈ میں سات کھلاڑیوں کو تبدیل بھی کیا گیا تھا۔
کرکٹ ایڈکٹر کے مطابق تبدیلیوں کے باوجود پاکستان آخری ٹیسٹ بھی ہار گیا اور یوں انگلینڈ نے سیریز تین صفر سے اپنے نام کی۔ اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ہیسن نے کہا تھا کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ سے محبت ہے اور ان کے خیال میں پاکستان کے نظام میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ اچھی رہنمائی ملنے پر ٹیم آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے مستقل بنیادوں پر ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔
ہیسن کی زیرِ نگرانی پاکستان نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز دو ایک سے جیتی ہے۔ پروپاکستانی کے مطابق سیریز کے بعد انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کپتان صاحبزادہ فرحان کی قیادت کو سراہا اور نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ پر اعتماد کا اظہار کیا، جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ نو سے تیرہ نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ سترہ سے اکیس نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہو گا۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہے، اس لیے ایونٹ میں پاکستان کی کمزور مہم کو سہارا دینے کے لیے دونوں میچ اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
پاکستان آبزرور کے مطابق یہ سیریز پاکستان کو اپنے ٹیسٹ کمبینیشن کا جائزہ لینے اور طویل فارمیٹ میں اعتماد بحال کرنے کا موقع فراہم کرے گی، جبکہ کوچنگ کا انتظام تیاریوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حتمی صورتحال پی سی بی کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہو گی۔
ذرائع: پروپاکستانی، اے اسپورٹس، پاکستان آبزرور، کرکٹ ایڈکٹر، کریکس (جیو نیوز کے حوالے سے)