سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ایران اور امریکا کے مابین سفارتی رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ سی این بی سی کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کی سرخی کے مطابق ایران سے منسلک حوثیوں کے ریاض کے ایئرپورٹ پر حملوں میں ایک پائلٹ ہلاک ہوا، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے سخت جوابی کاروائی کا اعلان کیا۔
ریاض ایئرپورٹ اور حملوں کا سلسلہ
سی این بی سی کے مطابق جمعرات کے حملے اس سلسلے کی تازہ کڑی تھے جس میں حوثیوں نے ریاض پر دباؤ بڑھایا۔ رپورٹ میں پروازوں کی منسوخی کا ذکر بھی ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے سی این بی سی نے لکھا کہ فرانس اور سعودی عرب بحیرہِ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تیل ٹرمینل کی حفاظت میں فرانسیسی فوج کی ممکنہ مدد پر غور کر رہے ہیں۔ پائلٹ کی موت کی تفصیلات ہمارے پاس دستیاب ذرائع میں واضح نہیں، اس لیے یہ بیان سی این بی سی کے حوالے کے طور پر نقل کیا جا رہا ہے۔
برناما اور اناضولو کی 6 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے پانچ اکتوبر کی شب تین کاروائیوں کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض کا شاہ خالد ایئرپورٹ، رابغ میں ارامکو کی رفائنری اور ابھا ایئرپورٹ شامل بتائے گئے۔ سعودی حکام کا فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا، اور اے ایف پی کے حوالے سے نقل کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ریاض میں دنگ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مگر ایئرپورٹ پر نقصان یا پروازوں کے متاثر ہونے کی صاف تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران اور امریکا کے رابطے
سی این بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ بامقصد مذاکرات کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے، تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، کہا کہ تہران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور آنے والے چند دنوں میں جواب دے گا۔ رپورٹ میں امریکی حملوں کے مؤخر ہونے کا ذکر بھی ہے۔ بازار کے تجزیہ کار ڈوئچے بینک کے جم ریڈ کے نوٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے رابطوں کے اعتراف سے تیل کے دباؤ میں کمی آئی، لیکن سرمایہ کار آئندہ سال تک طویل مدت کی رکاوٹوں کا اندازہ لگا رہے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو سات دن میں کھولنے کی ایرانی تجویز پر امریکی جواب زیرِ غور ہے اور سفارتی عمل جاری ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے علاقائی ممالک سے کہا ہے کہ تیل برآمد کے نئے راستوں کی کوشش کو مخاصمانہ قرار دیا جائے گا۔ الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کے ایرانی تجویز مسترد کرنے کے بعد ہی ایران نے کہا تھا کہ ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک امریکا اس کی شرائط پوری نہ کرے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران نے آبنائے پر کنٹرول کھو دیا ہے اور تیل کی آمد و رفت تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، جبکہ تہران اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ متضاد بیانات فریقوں کے اپنے دعوے ہیں، اور ہم انہیں ایک دوسرے سے ملا کر تصدیق نہیں کر سکے۔
ذرائع: CNBC | Bernama-Anadolu | Reuters (via JPost) | The National | Al Jazeera