پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو کاروبار کا اختتام مندی پر ہوا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کے ایس ای سو سیکڑے انڈیکس 352.63 پوئنٹس یا 0.21 فیصد کمی کے ساتھ 167,089.27 پوئنٹس پر بند ہوا۔
دن بھر کا اتار چڑھاؤ
انڈیکس 168,000 پوئنٹس کے قریب کھلا اور ابتدائی تیزی میں 168,134.12 کی انڈرائے بلندِ سطح تک پہنچا۔ بعد ازاں فروخت کا دباؤ بڑھا اور انڈیکس 166,837.72 پوئنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔ دوپہر کے بعد کچھ بحالی کی کوشش ہوئی اور انڈیکس 167,300 کے قریب پہنچا، لیکن یہ بهالی برقرار نہ رہ سکی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق کاروبار کے آغاز میں انڈیکس میں 600 سے زائد پوئنٹس کا اضافہ ہوا تھا، لیکن اختتام پر انڈیکس اس بلندی سے تقریباً 1,045 پوئنٹس نیچے رہا۔
جمعرات کا پس منظر
اس سے اگلے روز یعنی جمعرات کو بھی مارکیٹ میں 1,138.50 پوئنٹس یا 0.68 فیصد کی کمی کے ساتھ انڈیکس 167,441.91 پر بند ہوا تھا۔ بزنس ریکارڈر نے اس کا سبب عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث منافع خوری بتائی۔ اس دن انڈیکس نے 169,486.60 کی انڈرائے بلندی بھی دکھائی تھی، جبکہ بدھ کو انڈیکس 168,580.41 پر بند ہوا تھا۔
کن شعبوں نے نقصان کیا
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کمرشل بینکوں، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی کے حصص دباؤ میں رہے، جبکہ ایچ بی ایل، یو بی ایل، ایم سی بی اور او جی ڈی سی ایل نمایاں متاثرہ حصص میں شامل تھے۔ پاکیرا کی رپورٹ کے مطابق، جس نے پی ایس ایکس ڈیٹا پورٹل سے اعداد دیکھنے کا دعویٰ کیا، ایچ بی ایل، یو بی ایل، ایم سی بی اور نیشنل بینک نے مل کر انڈیکس سے تقریباً 273 پوئنٹس کم کیے۔ انڈیکس میں شامل تمام 14 بینکوں نے مل کر تقریباً 277 پوئنٹس کا نقصان کیا۔ ارشد حبیب لمٹڈ کے تجزیے کے مطابق کھادوں اور بعض اوسط درجے کے حصص میں چندنی مضبوطی دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں کی احتیاط کی وجوہات
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مارکیٹ پر مقامی سیاسی غیر یقینی، جغرافیائی سیاسی خطرات خصوصاً حوثی اور بحیرہِ احمر سے جڑے تناؤ، تیل کی بلند قیمتیں اور تجارتی خسارے میں اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی میں منافع کی شرح بڑھنے سے پالیسی ریٹ میں اضافے کے امکان کی توقعات بھی پیدا ہوئیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وال اسٹریٹ میں ٹیک حصص ایک ایسی رپورٹ کے بعد گرے جس میں کہا گیا تھا کہ اوپن اے آئی کی سالانہ آمدنی کمپنی کے پہلے اشاروں سے 20 ارب ڈالر کم تھی۔ یہ بزنس ریکارڈر کی نقل کردہ رپورٹ ہے، ہم نے اس مکمل دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
ہفتہ وار کارکردگی
پاکیرا کے مطابق ہفتے کی پہلی کاروباری دن یعنی 2 اکتوبر کو انڈیکس 168,155.49 پر بند ہوا تھا، یوں ہفتہ وار کمی تقریباً 1,066 پوئنٹس بنتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ہفتہ وار کمی کا تناسب 0.69 فیصد اور ارشد حبیب لمٹڈ نے 0.64 فیصد بتایا۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند سیشنز میں مارکیٹ کی سمت بنیادی طور پر تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے متعین ہوگی۔ یہ معلومات عام اطلاع کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔
ذرائع: Business Recorder | Express Tribune | Daily Times | Pakera