اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکام کے درمیان جمعرات کی صبح توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان آئندہ چار سے پانچ ہفتوں میں فنڈ کے وسائل سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر نکلوانے کا اہل ہو جائے گا، تاہم یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق بورڈ کی منظوری کے بعد ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر (76 کروڑ ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر (15 کروڑ 40 لاکھ ایس ڈی آر) دستیاب ہوں گے۔ اس کے بعد دونوں انتظامات کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے آیوا پیٹروا (Iva Petrova) کی سربراہی میں 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں مذاکرات کیے، جن کے دوران 2026 کی آرٹیکل فور مشاورت بھی مکمل ہوئی۔ مذاکرات کے اختتام پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشن چیف کے ساتھ ریپ اپ سیشن کیا، جس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے ماہر بنیجی (Mahir Binici) بھی موجود تھے۔
آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باوجود ای ایف ایف پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رہا ہے۔ فنڈ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو 4 فیصد رہی، تاہم توانائی کی بلند قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹوں نے رفتار کچھ سست کی اور پورے سال کی نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے۔ مئی میں بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد ستمبر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر تقریباً 10.3 فیصد پر آ گئی۔ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا، جس میں ترسیلاتِ زر کا بڑا کردار تھا، جبکہ ستمبر کے اختتام تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر تقریباً 21.5 ارب ڈالر ہو گئے۔ فنڈ نے سرکاری ریٹنگ میں بہتری اور عالمی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو پالیسی پر اعتماد کی علامت قرار دیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی غیر مستحکم قیمتوں، سخت عالمی مالی حالات اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث خطرات بدستور بلند ہیں۔
معاہدے کی سب سے نمایاں شرط ایندھن سبسڈی سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا کہ ایندھن معاونت اسکیم کو فوری طور پر ختم کیا جائے، کیونکہ اس کی لاگت زیادہ اور ہدف بندی وسیع ہے۔ فنڈ کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھیں تو آئندہ کوئی بھی معاونت محدود، مخصوص مدت کی، موجودہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے ہدف شدہ اور مالی سال 2027 کے بجٹ کے اندر ہونی چاہیے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے تین ماہ کی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے لیے 75 ارب روپے رکھے گئے اور موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو 30 لیٹر پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جانی تھی۔ اخبار کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی۔
سماجی شعبے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ صحت اور تعلیم پر اخراجات میں طویل عرصے سے جاری کمی روک دی گئی ہے اور یہ مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 2.5 فیصد ہو گئے ہیں، جبکہ مالی سال 2027 میں انہیں 2.8 فیصد تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ ٹریبیون کے مطابق یہ ہدف آئی ایم ایف کے پہلے طے شدہ تقریباً 3 فیصد (4.24 ٹریلین روپے) سے کم ہے کیونکہ چاروں صوبوں نے بجٹ میں کم رقم مختص کی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے حکومت نے مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ فنڈ نے خطرات پر مبنی آڈٹ، ڈیجیٹل انوائسنگ اور تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے استعمال جیسی ٹیکس انتظامی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا۔ اسٹیٹ بینک سے کہا گیا کہ مہنگائی کو دیرپا طور پر ہدف کی حد میں لانے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھی جائے اور شرحِ مبادلہ میں لچک جھٹکے سہنے کا ذریعہ رہے۔ بجلی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، نجی شعبے کی شرکت اور گیس کے نقصانات میں کمی کو گردشی قرضے سے بچاؤ کے لیے ضروری قرار دیا گیا، جبکہ سرکاری اداروں کی گورننس بہتر بنانے اور نجکاری آگے بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
پس منظر
جولائی 2024 میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا۔ مارچ 2025 میں پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدے کے بعد مئی 2025 میں ایک ارب ڈالر جاری ہوئے اور آر ایس ایف کی منظوری ملی۔ اکتوبر 2025 میں دوسرے جائزے پر معاہدہ ہوا اور دسمبر میں بورڈ نے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دی۔ اس سال مارچ میں تیسرے جائزے پر مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہوئے، تاہم مئی میں بورڈ نے تقریباً 1.1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور 22 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت جاری کرنے کی اجازت دی، جس سے مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر ہوئیں۔
اہم نکات
- معاہدہ ای ایف ایف کے چوتھے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر ہوا؛ بورڈ منظوری باقی ہے۔
- ای ایف ایف سے تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف سے تقریباً 21 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
- مالی سال 2026 کی نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد، ستمبر کی مہنگائی تقریباً 10.3 فیصد، زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر۔
- ایندھن سبسڈی فوری ختم کرنے اور صحت و تعلیم کے اخراجات 2.8 فیصد تک لے جانے کا عزم۔
ممکنہ اثرات
قسط ملنے سے زرمبادلہ ذخائر اور بیرونی مالی ساکھ کو سہارا ملے گا، تاہم سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کو ایندھن مزید مہنگا محسوس ہو سکتا ہے۔ سرکاری اداروں اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات سے آئندہ مہینوں میں ٹیرف اور نجکاری کے فیصلے متوقع ہیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں منظوری کے بعد رقم چار سے پانچ ہفتوں میں ملنے کی توقع ہے۔ اس سے پہلے حکومت کو سرکاری اداروں کے قانون میں ترامیم سمیت طے شدہ اقدامات پر پیش رفت دکھانا ہوگی۔
ذرائع
- ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون (8 اکتوبر 2026)