کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو مندی رہی اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس یا 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 167,441.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق انڈیکس گزشتہ روز 168,580.41 پر بند ہوا تھا۔ دن کے دوران یہ 169,486.60 کی بلند ترین سطح تک پہنچا، مگر منافع خوری اور فروخت کے دباؤ کے باعث نیچے آ گیا۔
دن بھر کی صورتحال
24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق ابتدائی سیشن میں انڈیکس 768 پوائنٹس بڑھ کر 169,348 تک پہنچا تھا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق دوپہر کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ رہا اور بحالی کی ایک مختصر کوشش برقرار نہ رہ سکی، جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح کے قریب بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون میں کے اے ایس بی کے ٹریڈ کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق شرکت کمزور رہی اور تقریباً 152 ملین حصص کا لین دین ہوا۔ کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں نے انڈیکس پر بوجھ ڈالا، جبکہ یو بی ایل، ایف ایف سی، سسٹمز، اینگرو فرٹیلائزر اور پی او ایل انڈیکس میں کمی کے بڑے محرک رہے۔ کے ای ایل، سی نرجی، پی آئی بی ٹی ایل اور ایف سی سی ایل حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ فعال رہے۔
تیل کی قیمتوں کا دباؤ
ٹریبیون کے مطابق مارکیٹ پر دباؤ کی بڑی وجہ تیل کی عالمی قیمت تھی: برینٹ خام تیل 104 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا اور 105 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوا، یعنی ایک دن میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔ یورونیوز اور بلومبرگ کے مطابق اس اضافے کے پیچھے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں میں تیزی، ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کی رپورٹیں اور امریکی خلیج میں طوفان کے باعث پیداوار کی بندش شامل ہیں۔ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے مہنگا تیل مہنگائی، بیرونی کھاتے اور کمپنیوں کے منافع پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان کنیکٹ کی رپورٹ کے مطابق اوگرا کے نوٹیفکیشن پر 8 اکتوبر سے پیٹرول 396.65 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 394.94 روپے فی لیٹر مقرر ہوا تھا۔
آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود کمی
یہ کمی ایسے وقت آئی جب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے، جس کے بعد بورڈ کی منظوری سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔ پی ایس ایکس انویسٹرز زون کے مطابق منافع خوری اور اتار چڑھاؤ نے اس معاہدے کے مثبت اثر کو دبا دیا۔ کے اے ایس بی کے ٹریڈ کے احمد شیراز کا کہنا تھا کہ جب تک جغرافیائی صورتحال اور تیل کی سمت واضح نہیں ہوتی، مارکیٹ میں احتیاط رہے گی، اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل کمی ایکوئٹیز کو سہارا دے سکتی ہے۔
اس ہفتے کا اتار چڑھاؤ
اے آر وائی اور پی ایس ایکس انویسٹرز زون کے مطابق 5 اکتوبر کو انڈیکس 2,288 پوائنٹس گر کر 165,867.32 پر بند ہوا، 6 اکتوبر کو 2,592.79 پوائنٹس کے اضافے سے 168,460.10 پر پہنچا، اور 7 اکتوبر کو 120.30 پوائنٹس بڑھ کر 168,580.40 پر بند ہوا۔ سرمایہ کار جمعہ کو بھی تیل اور ایران سے متعلق عالمی خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، بزنس ریکارڈر، یورونیوز