پاکستان میں رواں سال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو بجٹ پر پڑ رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر تک پیٹرول سال کے آغاز کے مقابلے میں 145.13 روپے بڑھ کر 398.30 روپے فی لیٹر، جبکہ ڈیزل 139.16 روپے بڑھ کر 396.24 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔
روزانہ قیمتوں کا نظام
رپورٹ کے مطابق 21 جولائی کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمت 35 مرتبہ بڑھائی اور 22 مرتبہ کم کی گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 34 بار بڑھی اور 23 بار کم ہوئی۔ قیمتیں 3 اپریل 2026 کو بلند ترین سطح پر پہنچیں، جب پیٹرول 458.41 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک گیا۔
قیمتوں پر اثر انداز عوامل
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، درآمدی لاگت اور روپے کی قدر میں تبدیلی ملکی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پیٹرول کی حتمی قیمت میں درآمدی لاگت کے ساتھ لیویز، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں، اس لیے عالمی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین کو منتقل نہیں ہوتا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک تقریباً 1.205 کھرب روپے اور اپریل تک تقریباً 1.342 کھرب روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی۔ مالی سال 2026-27 کے لیے لیوی کا بجٹ ہدف تقریباً 1.676 کھرب روپے رکھا گیا ہے؛ یہ ہدف ہے، اب تک کی وصولی نہیں۔
پاکستان خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست میں تقریباً 20.01 لاکھ ٹن خام تیل درآمد ہوا۔ ٹریبیون نے واضح کیا کہ خام تیل اور تیار پیٹرول کی درآمد الگ زمرے ہیں، اس لیے خام تیل کے حجم سے پیٹرول کی درآمد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
مہنگائی اور گھریلو بجٹ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی 10.26 فیصد رہی، جبکہ صارف قیمتیں اگست کے مقابلے میں 1.27 فیصد بڑھیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات ماہانہ بنیاد پر 5.75 فیصد اور شہری علاقوں میں موٹر فیول کی قیمتیں 10.76 فیصد بڑھیں۔خوراک کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان رہا: پیاز نمایاں مہنگا ہوا، جبکہ ٹماٹر، مرغی اور انڈے سستے ہوئے۔
موٹر سائیکل سواروں، نجی گاڑیوں کے مالکان، رکشہ ڈرائیوروں اور روزانہ سفر کرنے والے ملازمین کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے بسوں، ٹرکوں، زراعی مشینری اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر خوراک اور تعمیراتی سامان سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین اور سیاسی مطالبات
ماہرینِ معیشت کے مطابق حکومت کو قیمتوں کے تعین میں شفافیت، ٹیکس ڈھانچے کے جائزے، پبلک ٹرانسپورٹ میں بہتری اور متبادل توانائی کے فروغ پر توجہ دینا ہو گی۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اتوار کو اوکاڑہ میں ریلی سے خطاب میں پیٹرولیم لیوی کو عوام پر بوجھ قرار دے کر اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درمیانی مدت میں قیمتوں میں عارضی کمی سے کچھ ریلیف مل سکتا ہے، لیکن گھریلو اخراجات میں پائیدار کمی کے لیے درآمدی توانائی پر انحصار اور ٹرانسپورٹ لاگت کم کرنا ضروری ہوگا۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (Fuel costs keep squeezing household budgets)، ایکسپریس ٹریبیون (Maulana Fazl accuses govt of U-turn)