بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پارلیمان میں خیبرپختونخوا گورنر راج پر بحث: وزیراعظم نے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا، پی ٹی آئی کا آئینی جواز پر سوال

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے رہیں؛ وزیرِ قانون کے مطابق ایمرجنسی پورے صوبے پر لاگو ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کی فائل تصویر (علامتی)
علامتی تصویر: Mhtoori، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس ہوئے، جہاں حکومت اور اپوزیشن نے اس اقدام پر ایک دوسرے کے بالکل برعکس مؤقف اپنایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسی روز حکمران اتحاد کی جماعتوں کو اعتماد میں لیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ میں اس فیصلے کے آئینی جواز پر سوالات اٹھائے۔ ڈان کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس کسی اہم پیش رفت کے بغیر بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد اور مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکامِ پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا) کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے یہ انتہائی قدم اٹھانے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی اور کھلے دل سے مذاکرات کیے، مگر دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ سرکاری بیان کے مطابق اتحادی جماعتوں نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کا یقین دلایا۔

سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کوئی جماعت دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی، مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو آئینی جمہوریت کے خلاف جنگ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ آئینی شرائط واقعی پوری ہوئیں اور یہ اقدام ضروری اور متناسب ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر مسئلہ چند اضلاع تک محدود تھا تو پورے صوبے کو کیوں شامل کیا گیا۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس نے گیارہ اکتوبر کو سیاہ دن قرار دیتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی فوری واپس لینے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی گورنر راج کی مخالفت میں قرارداد جمع کرا رکھی ہے۔ دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ہر شق کا جائزہ لیا اور آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی پورے صوبے پر لاگو ہے، صرف بارہ اضلاع پر نہیں، البتہ ان بارہ اضلاع کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ کی صورت میں خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 سے 2026 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے آٹھ ہزار چھ سو واقعات ہوئے، جبکہ اس سے پہلے کے چار برسوں میں یہ تعداد دو ہزار نو سو تھی۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے گورنر راج کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی، تاہم اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ سیاسی بحث بدھ کو ہوگی۔ پی ٹی آئی نے اپنے نو زیرِ حراست ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔ جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس پندرہ اکتوبر کو بلائے جانے کا امکان ہے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، ڈان (Dawn)، ڈان (Dawn)، جیو نیوز (Geo News)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔