بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

دفترِ خارجہ نے بھارتی وزیرِ دفاع کے دھمکی آمیز بیان کی مذمت کر دی، جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب کا انتباہ

ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے راج ناتھ سنگھ کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؛ بریفنگ میں ای-اپوسٹیل خدمات کی تفصیل بھی بتائی گئی۔
اسلام آباد کی شاہراہِ دستور جہاں وزارتِ خارجہ سمیت اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں (فائل/علامتی تصویر)
تصویر: Msirfankhalid / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے جمعے کے روز بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے اُن بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے جن میں پاکستان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔ ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس نوعیت کے بیانات بھارت کی بالادستی پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا تھا کہ اگر سرحد پار سے کوئی نئی دہشت گردانہ سرگرمی ہوئی تو اس کا جواب گزشتہ مرتبہ سے بھی بڑی کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔ پاکستان نے اس بیان کو اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والا قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے ان ریمارکس کو، جن میں بھارتی جارحیت کی دھمکی شامل ہے، مسترد کرتا ہے۔ ان کے بقول ایسے غیر محتاط بیانات اس خطرے کو نمایاں کرتے ہیں جو بھارت کا جارحانہ طرزِ عمل خطے کے امن کے لیے پیدا کر رہا ہے۔

سجاد حیدر خان نے گزشتہ برس مئی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مختصر فوجی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر پاکستان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی صلاحیت اور عزم دونوں کا عملی مظاہرہ کیا تھا اور بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اُس کارروائی کے نتائج یاد رکھنے چاہئیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی بھی ناعاقبت اندیشانہ جارحیت کے مقابلے میں اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تحمل اور امن سے وابستگی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ گزشتہ سال کے تجربے سے مناسب سبق سیکھے، جارحانہ رویہ اور خطرناک بیان بازی ترک کرے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان سے وزارتِ خارجہ کی تصدیقی (اٹیسٹیشن) اور اپوسٹیل خدمات میں اصلاحات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز کی تیاری اور استعمال میں ملوث ایک مبینہ نیٹ ورک پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا، جس میں وزارت کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کا الزام بھی سامنے آیا تھا۔

سجاد حیدر خان نے بتایا کہ وزارت اپوسٹیل خدمات کو مرحلہ وار ڈیجیٹل اور خودکار بنا رہی ہے تاکہ یہ عمل تیز، شفاف اور عوام کے لیے آسان ہو۔ ان کے مطابق وزارت کے پورٹل کے ذریعے ای-اٹیسٹیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ای-اپوسٹیل کی جانب منتقلی کا کام جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق اس منصوبے کی نگرانی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار خود کر رہے ہیں، جبکہ ان خدمات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائری بھی جاری ہے جس کے نتائج تحقیقات مکمل ہونے پر جاری کیے جائیں گے۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، دی نیوز (The News)، پاکستان آبزرور

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔