بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ منظور کر لیا، برآمدات کا ہدف 6 ارب ڈالر، ٹیرف 15 فیصد تک کم کرنے کی تجویز

ڈان کے مطابق مسودہ کابینہ میں پیش ہوگا؛ برقی گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس تجویز ہے، جبکہ پرزہ ساز صنعت نے ٹیرف کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
پاکستان میں چلنے والی ایک کار کی علامتی تصویر
(علامتی تصویر) تصویر: Illusive255 / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد گاڑیوں کے شعبے کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچانا اور مقامی پیداوار، مسابقت اور برقی گاڑیوں کے فروغ کو آگے بڑھانا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم آفس نے اس بارے میں سرکاری بیان جاری نہیں کیا، تاہم وفاقی حکومت کے ذرائع نے حتمی مسودہ شیئر کیا، جو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیر صنعت و پیداوار ہارون اختر نے وزیراعظم کو پیش کیا تھا۔

مسودہ اب اصولی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی۔ پالیسی کے تحت مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یو) اور سی کے ڈی کٹس پر ٹیرف 2030-31 تک مرحلہ وار کم کر کے 15 فیصد تک لایا جائے گا، تاکہ آٹو سیکٹر کو کھلے مقابلے کی طرف لے جایا جا سکے۔

برقی گاڑیوں کے بارے میں مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ 2026-31 کے دوران بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد۔ 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی برقی گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہے، جبکہ 15 ہزار ڈالر سے کم قیمت کی چھوٹی برقی گاڑیوں پر کم ٹیرف کا تصور بھی شامل ہے۔ برقی گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور واپسی کی مدت تین سے پانچ سال کرنے کی تجاویز منظور کی گئی ہیں۔

حکومت نے پالیسی کے پانچ برسوں میں مجموعی برآمدی ہدف 6.01 ارب ڈالر رکھا ہے، جس میں پرزوں اور گاڑیوں کی مشترکہ برآمدات شامل ہیں۔ سال بہ سال اہداف یہ ہیں: 2026-27 میں 256.6 ملین ڈالر، 2027-28 میں 671.8 ملین ڈالر، 2028-29 میں 1.11 ارب ڈالر، 2029-30 میں 1.17 ارب ڈالر اور پانچویں سال یعنی 2030-31 میں 2.19 ارب ڈالر۔

مسودے میں گاڑی ساز کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف تجویز کیے گئے ہیں۔ برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کے پانچ فیصد کے برابر معاوضہ ملے گا، جبکہ پچھلے سال سے زائد برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات دی جائیں گی۔ ہدف پورا نہ کرنے والی کمپنیوں کو جرمانوں کا سامنا ہوگا، اور اگر ہدف مسلسل دو سال پورا نہ ہو تو مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ ہو سکتا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ پرزوں کے استعمال کے نئے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں اور ناکام رہنے والی کمپنیاں اپنی مراعات سے محروم ہو سکتی ہیں۔

حکومت کو توقع ہے کہ آٹوموٹو ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے پانچ برسوں میں 232 ارب روپے سے زائد جمع ہوں گے۔ یہ لیوی ایک ہزار سی سی سے زائد انجن کی گاڑیوں پر لگانے کی تجویز ہے اور اس کی رقم برآمدی مراعات اور صنعتی ترقی کے پروگراموں، بشمول پرزہ ساز اداروں کی ٹیکنالوجی اپ گریڈ، پر خرچ ہوگی۔ معیار اور نگرانی بہتر بنانے کے لیے پاکستان آٹوموٹو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا منصوبہ بھی ہے، جبکہ تحقیق، سرٹیفکیشن، تھرڈ پارٹی آڈٹ اور مقامی و درآمدی گاڑیوں کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات اپنانے کے لیے فنڈنگ بھی رکھی گئی ہے۔

ذرائع: Dawn

ماخذ: Dawn

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔