بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

میر رضا علی کیس: جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مکمل، پولیس تفتیش پر سخت سوالات، رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی

میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے یک رکنی جوڈیشل کمیشن نے 49 گواہوں کے بیانات اور 15 سماعتوں کے بعد کارروائی مکمل کر لی۔ جسٹس عمر سیال نے تفتیش میں خامیوں کی نشاندہی کی، جبکہ پولیس کے مطابق خودکشی یا قتل کا تعین ابھی باقی ہے۔
فائل تصویر: کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کی عمارت
فائل تصویر: کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کی عمارت | تصویر: A.Savin، لائسنس: Free Art License (ویکی میڈیا کامنز)

کراچی: میر رضا علی کی ہلاکت اور اس سے جڑی ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے قائم یک رکنی جوڈیشل کمیشن نے بدھ کو اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کام کرنے والے اس کمیشن کو 24 اگست کو تشکیل دیا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق کمیشن نے 15 سماعتوں میں 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، جن میں اس مقام کا دورہ بھی شامل تھا جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس کے باوجود کیس کے کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔

آخری سماعت میں تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری اور سٹیزنز پولیس لیژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے عہدیدار کاشف افتخار کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ سی پی ایل سی نمائندے نے بتایا کہ کمیٹی میر رضا کے لاپتا ہونے کے پہلے دن سے پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے اور ابتدا میں مقتول کی خالہ نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ کال ڈیٹا ریکارڈ، جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے آزادانہ جائزے کے بعد اب تک "کوئی ٹھوس سراغ" نہیں ملا، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا نے صبح 4:10 سے 4:20 کے درمیان اپنے فون پر ایپل میپس استعمال کیا، ممکن طور پر اس وقت جب وہ آن لائن ٹیکسی میں جائے وقوعہ کی جانب جا رہے تھے، اور ان کے نمبر سے آخری کال ٹیکسی ڈرائیور کو کی گئی تھی۔ ٹریبیون کے مطابق ان کا انٹرنیٹ صبح 4:25 تک فعال رہا۔ پولیس نے آئی پی سے متعلق معلومات کے لیے این سی سی آئی اے اور ایپل سے رابطہ کیا ہے۔

سی پی ایل سی کے مطابق گلستانِ جوہر کے بلاک ایک سے چار میں اس کے 46 کیمرے لگے ہیں، لیکن واقعے کی جگہ ان کی کوریج سے باہر تھی اور میر رضا صرف تین کیمروں میں نظر آئے۔ کمیشن نے مسجد خضریٰ کی فوٹیج کے پانچ گھنٹے غائب ہونے پر بھی سوال کیا، جس کی وجہ سی پی ایل سی عہدیدار نے مسجد کا پرانا نگرانی کا نظام بتائی۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ تحقیقات اس پہلو سے جاری ہیں کہ میر رضا نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا۔ ٹریبیون کے مطابق انہوں نے کہا کہ پولیس آسانی سے کسی کو اٹھا کر اعترافِ جرم کروا سکتی تھی، مگر ہم اس کیس میں انصاف چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سمیہ سید کی رپورٹس میں تضاد کی وجہ سے سپر میڈیکل بورڈ کی تجویز دی گئی تھی۔ اس پر جسٹس سیال نے سوال اٹھایا کہ جب آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ پوسٹ مارٹم کر چکا ہے تو ایک ڈاکٹر کی رائے کو اتنا وزن کیوں دیا جا رہا ہے، اور ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ کی وجہ سے سندھ حکومت کو شرمندگی کا سامنا ہے۔

جسٹس سیال نے تفتیش میں خامیوں اور غفلت کی بارها نشاندہی کی۔ ڈان کے مطابق انہوں نے پوچھا کہ خول تلاش کرتے وقت جھاڑیوں کو آگ لگانا کیا درست تھا، جس پر تفتیشی افسر نے اعتراف کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ تفتیش "ٹنل ویژن" کے ساتھ کی گئی۔ ٹریبیون کے مطابق جج نے جائے وقوعہ کو محفوظ نہ رکھنے پر کہا کہ وہاں درجنوں اہلکار داخل ہوئے اور "جائے وقوعہ کا حلیہ بگاڑ دیا گیا"، ایس ایچ او عدیل افضل کی موبائل فون ویڈیو کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور یہ بھی پوچھا کہ کرائم سین یونٹ کے 15 منٹ میں پہنچنے کا دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ مقتول کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے ایک مشتبہ گاڑی کی نقل و حرکت کی نشاندہی کی، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ سیف سٹی اور دیگر ذرائع سے جانچ کے باوجود کسی شخص سے مشکوک تعلق نہیں ملا۔

آئی فون کے بارے میں تفتیشی افسر نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے کہا ہے کہ ڈیٹا ریکور نہیں ہو سکا، اور ملک میں اسے کھولنے کی کوئی تکنیک موجود نہیں؛ البتہ ایپل سے خط و کتابت جاری ہے۔ خاندان کے وکیل نے درخواست کی کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ عام کی جائے، جس پر جسٹس سیال نے کہا کہ وہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجیں گے جو اسے عام کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ کاروائی کے اختتام پر جج نے چیف جسٹس، وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ اور مقتول کے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔

پس منظر

میر رضا علی، 25 سالہ کاروباری شخصیت، کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ایک سنسان مقام سے ملی تھی، جس پر ایک گولی کا زخم تھا۔ وہ ایک دن پہلے لاپتا ہوئے تھے۔ ڈان کے مطابق پولیس نے ابتدا میں اسے خودکشی کے طور پر درج کیا تھا۔ سندھ حکومت نے کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھائی تھی۔

اہم نکات

  • کمیشن نے 24 اگست سے اب تک 15 سماعتوں میں 49 گواہوں کے بیانات لیے۔
  • سی پی ایل سی: کال ریکارڈ، جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی سے اب تک کوئی ٹھوس سراغ نہیں ملا۔
  • جج کے ریمارکس: تفتیش میں "ٹنل ویژن"، جائے وقوعہ محفوظ نہ رکھا گیا۔
  • رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی، جو فیصلہ کریں گے کہ اسے عام کیا جائے یا نہیں۔

ممکنہ اثرات

کمیشن کی رپورٹ پولیس تفتیش کے طریقۂ کار اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سمت متعین کر سکتی ہے۔ رپورٹ عام نہ ہونے کی صورت میں خاندان اور سوسائٹی کی جانب سے شفافیت کے مطالبے میں اضافہ ممکن ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

آئی فون کا ڈیٹا، ایپل سے رابطہ، این سی سی آئی اے کی معلومات اور میڈیکل بورڈ کی تجویز آئندہ تفتیش کے اہم نکات ہوں گے؛ حکومت رپورٹ عام کرنے پر فیصلہ کرے گی۔

ذرائع

  • ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون (8 اکتوبر 2026)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔