اسلام آباد: ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے بدھ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 1.82 روپے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 91 پیسے فی لیٹر کمی کی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد پیٹرول 396.65 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 394.94 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔ ایک روز قبل، چھ اکتوبر کی رات ہونے والی نظرثانی میں پیٹرول 1.19 روپے بڑھ کر 394.83 روپے اور ڈیزل 1.91 روپے کم ہو کر 395.85 روپے فی لیٹر ہوا تھا۔ بول نیوز کے مطابق تین اکتوبر کو بھی پیٹرول کی قیمت میں 2.10 روپے اضافہ کر کے اسے 392.76 روپے فی لیٹر کیا گیا تھا۔
ایندھن کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ کے حوالے سے برینٹ فیوچرز 1.05 ڈالر یا 1.04 فیصد اضافے سے 101.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، کیونکہ امریکی طوفان اور یمن کے حوثیوں کے فضائی حملے رسد کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ٹریبیون نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی رپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ سے رسد کے خطرات کے باعث 100 ڈالر سے اوپر رہیں۔ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ کرستالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کی جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو توانائی کی بلند قیمتوں کا مسئلہ کچھ عرصہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کے کاروباری دن میں اتار چڑھاؤ رہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 120 پوائنٹس کے اضافے سے 168,580 پر بند ہوا اور صبح کے اضافے منافع وصولی کی وجہ سے ختم ہو گئے۔ ڈان کے مطابق انڈیکس نے دن کے اختتام کے قریب سستے داموں پر خریداری کے سبب بحالی دکھائی اور معمولی اضافے پر بند ہوا، جبکہ علاقائی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ رکھا۔ اس سے ایک روز پہلے ڈان کے مطابق آئی ایم ایف سے مثبت توقعات کے باعث مارکیٹ 2,593 پوائنٹس سنبھلی تھی، جبکہ اس سے پہلے 166,000 سے نیچے آتے ہوئے ایک دن میں 2,288 پوائنٹس گر گئی تھی جس کی وجہ سیاسی شور بتائی گئی تھی۔
سونے کی قیمتوں کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ عالمی قیمتیں کم ہونے کے بعد مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 3,100 روپے سستا ہو کر 434,436 روپے ہو گیا، جبکہ روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 277.02 روپے فی ڈالر پر آ گیا۔ یہ دونوں اعداد و شمار صرف ایکسپریس ٹریبیون سے ملے ہیں، اس لیے اسٹیٹ بینک یا صرافہ ایسوسی ایشن کے نرخ بھی دیکھ لیں۔
پیٹرولیم قیمتوں کا معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ فنڈ نے ایندھن سبسڈی اسکیم کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران ڈان کے مطابق نیپرا نے اکتوبر کے بلوں میں فیول لاگت کی مد میں 1.11 روپے فی یونٹ اضافی وصولی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس سے بجلی صارفین پر بھی بوجھ بڑھے گا۔
پس منظر
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، روپے کی شرحِ مبادلہ اور حکومتی ٹیکسوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ فروری میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران سے جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے سبب عالمی توانائی منڈیاں دباؤ میں ہیں۔
اہم نکات
- پیٹرول 396.65 روپے اور ڈیزل 394.94 روپے فی لیٹر (ڈان کی رپورٹ)۔
- برینٹ تیل 101.63 ڈالر فی بیرل کے قریب۔
- کے ایس ای 100 تقریباً 168,580 پر بند۔
- سونا 3,100 روپے سستا ہو کر 434,436 روپے فی تولہ؛ روپیہ 277.02 فی ڈالر (صرف ٹریبیون کی رپورٹ)۔
ممکنہ اثرات
ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ، اناج اور بجلی کے نرخوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں، جبکہ سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں موٹر سائیکل سوار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے سے مارکیٹ کے اعتماد کو سہارا مل سکتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے
اگلی نظرثانی میں قیمتوں کا انحصار عالمی تیل، روپے کی قدر اور حکومتی لیوی پر ہوگا۔ جمعرات کے کاروباری دن میں اسٹاک مارکیٹ کا ردعمل آئی ایم ایف معاہدے کی خبر پر دیکھا جائے گا۔
ذرائع
- ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور بول نیوز (8 اکتوبر 2026)