خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو اپنے چھٹے روز پشاور سے چارسدہ کی طرف روانہ ہوا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ مارچ پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر کیا جا رہا ہے۔
مارچ کا شیڈول
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر خان کے حوالے سے اے آر وائی نیوز نے بتایا کہ مارچ 8 اکتوبر کو پشاور میں رہا، 9 اکتوبر کو چارسدہ میں رات گزارے گا، 10 اکتوبر کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پارٹی صوابی پہنچنے کے بعد اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرے گی۔ مارچ اب تک خیبر پختونخوا کی حدود میں رہا ہے، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے بیانات
ڈان کے مطابق چارسدہ جاتے ہوئے سہیل آفریدی نے شرکاء سے مختصر خطاب میں کہا کہ فکر نہ کریں، صوابی کے بعد ہمیں کہیں اور بھی جانا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ان کا یہ بیان رپورٹ کیا کہ پارٹی صوابی میں اپنا حتمی لائحہ عمل پیش کرے گی۔ شفقنا پاکستان کے مطابق انہوں نے ملک بھر کے کارکنوں سے 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر جمع ہونے کی اپیل کی اور 14 اکتوبر تک مختلف ڈویژنوں کی شرکت کا نظام الاوقات بھی بتایا۔
شبقدر چوک پر خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے وفاقی حکومت کی سکیورٹی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کی اور سیاسی انتقام ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ شفقنا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ سال 2004 سے 2026 کے دوران ملک میں 14,000 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشن کیے گئے، اور ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ وزیرِ اعلیٰ کا اپنا دعویٰ ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
گورنر کا ردِعمل اور مذاکرات
ڈان کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر نے مارچ کے شرکاء کو چیلنج کیا کہ وہ صوابی سے آگے جا کر دکھائیں، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ اور ان کی کابینہ کو اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ مارچ پرامن رہے گا اور مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔
روزنامہ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی رابطے میں ہے تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔ اخبار کے مطابق پارٹی نے مارچ کا دورانیہ بڑھایا ہے تاکہ وفاق کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ سے بچا جا سکے اور بات چیت کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ نے سمجھوتے کے امکان کو مسترد کیا اور پنجاب میں بڑی تعداد میں شرکت کی پیش گوئی کی۔ دی نیشن نے پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ بھی نقل کیا کہ صوابی تک پہنچتے پہنچتے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ بن جائے گا۔ یہ پارٹی کا دعویٰ ہے، شرکاء کی تعداد کے آزاد اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
ذرائع: Dawn | Express Tribune | The Nation | Shafaqna | ARY News